حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 19
حیات احمد ۱۹ جلد پنجم حصہ اول وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو گئے ہیں۔دشمن خوشیاں منا اور حضور کی گرفتاری کا انتظار کر رہے ہیں“۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبل از وقت رو یا کشف اور الہامات کے ذریعہ ایک صاعقہ تہدید حکام اور ابتلا کی اطلاعات کے ساتھ ہی دو مختلف مقامات سے اپنے مختلف دوستوں کے ذریعہ اس قسم کی اطلاعات کاملنا الہی کلام اور عَلامُ الْغُيُوب ہستی کے قول کی تصدیق تھی۔حضور پرنور نے سنت انبیاء کے مطابق ظاہری انتظامات اور ضروری سامان کو جمع کرنے کی طرف توجہ فرمائی بعض خدام کو گورداسپور بھیج کر حقیقت حال اور معاملہ کی تفاصیل معلوم کرنے کا انتظام فرمایا چودھری رستم علی صاحب مرحوم نے امرتسر سے بھی حالات معلوم کرنے کی کوشش کی مگر کوئی تفصیلی اطلاع نہیں مل سکی جہاں تک میری یاد داشت کام کرتی ہے ہمارے محترم سیکھوانی دوست اس ذیل میں ادھر اُدھر کی دوڑ دھوپ میں پیش پیش تھے۔یا او جلہ کے بھائی جو گورداسپور کے قریب ہونے کی وجہ سے محترم چودھری صاحب سے ملتے جلتے رہتے تھے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس واقعہ سے کچھ ہی روز پہلے اس قسم کے ایک معاملہ میں مکرم چودھری صاحب نے عزیز مکرم چودھری غلام محمد صاحب کو جو آج کل حافظ صوفی اور غلام محمد صاحب آف ماریشس کے نام سے معروف اور مسجد محلہ دارالرحمت کے امام الصلوۃ ہیں کو خاص طور پر ایک پیغام دے کر بھیجا تھا۔مگر ان کو راستہ ہی میں روک لیا گیا۔الغرض گورداسپور اور امرتسر دونوں جگہ سے باوجود کوشش کے وارنٹ کے متعلق یقینی طور پر کچھ معلوم نہ ہوسکا اور نہ ہی یہ معمہ حل ہوسکا کہ وارنٹ کے اجرا کے بعد اس کے رو کے جانے کے لئے امرت سر کے ڈپٹی کمشنر نے تارکیوں دیا ؟ خبر بلا تفصیل ہم لوگوں کے لئے متوحش اور تشویش ناک تھی مگر حضرت اقدس جن کی ذات والا صفات کے متعلق تھی مطمئن اور حسب معمول ہشاش بشاش نظر آتے تھے۔کوئی گھبراہٹ تھی نہ پریشانی فکر دامن گیر تھی نہ اندیشہ وملال - حضور حسب معمول مہمات دینیہ میں مصروف۔نمازوں میں شریک ہوتے اور دربار بھی اسی آب و تاب سے۔اسی شان و شوکت سے لگتا۔سلسلہ فراہمی اسباب کی سرگرمیوں کے علاوہ اور کوئی خاص رنج و غم یا هم وحزن کے آثار دیکھنے میں آتے نہ سننے میں بلکہ ذکر ہوتا تو یہی کہ ہمارا تو ایسی باتوں سے اپنے خدا کے ساتھ اور زیادہ تعلق محبت و وفا بڑھتا