حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 336
حیات احمد ۳۳۶ جلد پنجم حصہ اول شعر یہ ہے جو دیوان مذکورہ کے صفحہ 9 میں درج ہے۔عَجِبْتُ لِمَسْرَاهَا وَأَنَّى تَخَلَّصَتُ إِلَيَّ وَ بَابُ السِّجُنِ دُونِيَ مُغْلَقُ یعنی وہ معشوقہ جو عالم تصور میں میرے پاس چلی آئی مجھے تعجب ہوا کہ وہ ایسے زنداں میں جس کے دروازے بند تھے میرے پاس جو میں قید میں تھا کیونکر چلی آئی۔دیکھو اس شعر میں بھی اس بلیغ فصیح شاعر نے عجبتُ کا صلہ لام ہی بیان کیا ہے۔جیسا کہ لفظ لِمَسْراہا سے ظاہر ہے اور ایسا ہی وہ تمام اشعار اس دیوان کے جو صفحہ ۳۹۰ ۵۱۱،۵۷۵،۴۱۱ میں درج ہیں ان سب میں عجب کا صلہ لام ہی لکھا ہے جیسا کہ یہ شعر ہے۔عَجِبْتُ لِسَعُيِ الدَّهْرِ بَيْنِي وَبَيْنَهَا فَلَمَّا انْقَضَى مَا بَيْنَنَا سَكَنَ الدَّهْرُ یعنی مجھے اس بات سے تعجب آیا کہ زمانے نے ہم میں جدائی ڈالنے کے لئے کیا کیا کوششیں کیں مگر جب وہ ہمارا وقت عشق بازی کا گزر گیا تو زمانہ بھی چپ ہو گیا۔اب دیکھو کہ اس شعر میں بھی عجب کا صلہ لام ہی آیا ہے اور ایسا ہی حماسہ کا یہ شعر ہے۔عَجِبْتُ لِبُرْنِي مِنْكِ يَا عِزَّ بَعْدَ مَا عُمِّرْتُ زَمَانًا مِنْكِ غَيْرَ صِحِيحِ یعنی اے معشوقہ یہ عجیب بات ہے کہ تیرے سبب سے ہی میں اچھا ہوا یعنی تیرے وصال سے اور تیرے سبب سے ہی ایک مدت دراز تک میں بیمار ہا یعنی تیری جدائی کی وجہ سے علیل رہا۔شاعر کا منشاء اس شعر سے یہ ہے کہ وہ اپنی معشوقہ کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ میری بیماری کا بھی تو ہی سبب تھی اور پھر میرے اچھا ہو جانے کا بھی تو ہی سبب ہوئی۔اب دیکھو کہ اس شعر میں بھی عجب کا صلہ لام ہی آیا ہے۔پھر ایک اور شعر لے یہ شعر جعفر بن علیہ الحارثی کا ہے جو اس نے مکہ میں محبوس ہونے کے زمانہ میں کہا۔(ديوان الحماسة شائع کرده مكتبة السَّلْفِيَّة شيش محل روڈ لا ہور نمبر ۲ مطبوعہ ۱۹۶۵ء) یہ شعر ابو صخر الهُذَلی کا ہے۔دیوان الحماسة صفحه ۳۴۰ ایڈیشن مذکور سے یہ شعر کثیر کا ہے۔دیوان الحماسة صفحہ ۳۶۱ ایڈیشن مذکور