حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 337 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 337

حیات احمد ۳۳۷ جلد پنجم حصہ اول لے حماسہ میں ہے اور وہ یہ ہے۔عَجَبًا لَأَحْمَدَ وَالْعَجَائِبُ جُمَّةٌ أَنَّى يَلُومُ عَلَى الزَّمَانِ تَبَدُّلِي یعنی مجھے کو احمد کی اس حرکت سے تعجب ہے اور عجائب پر عجائب جمع ہو رہے ہیں کیونکہ وہ مجھے اس بات پر ملامت کرتا ہے کہ میں نے زمانہ کی گردش سے بازی کو کیوں ہار دیا۔وہ کب تک مجھے ایسی بیہودہ ملامت کرے گا۔کیا وہ نہیں سمجھتا کہ ہمیشہ زمانہ موافق نہیں رہتا اور تقدیر بد کے آگے تدبیر پیش نہیں جاتی۔پس میرا اس میں کیا قصور ہے کہ زمانہ کی گردش سے میں ناکام رہا۔اب دیکھو کہ اس شعر میں بھی عجب کا صلہ لام آیا ہے اور اسی حماسہ میں اسی قسم کا ایک اور شعر ہے۔عَجِبْتُ لِعَبْدَانِ هَجَوْنِي سَفَاهَةٌ أَنِ اصْطَبَحُوا مِنْ شَائِهِمْ وَتَقَيَّلُوات یعنی مجھے تعجب آیا کہ کنیزک زادوں نے سراسر حماقت سے میری ہجو کی اور اس ہجو کا سبب ان کی صبح کی شراب اور دو پہر کی شراب تھی۔اب دیکھو اس شعر میں بھی عجب کا صلہ لام آیا ہے اور اگر یہ کہو کہ یہ تو اُن شاعروں کے شعر ہیں جو جاہلیت کے زمانہ میں گزرے ہیں وہ تو کافر ہیں ہم ان کے کلام کو کب مانتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لوگ باعث اپنے کفر کے جاہل تھے نہ بباعث اپنی زبان کے بلکہ زبان کی رو سے تو وہ امام مانے گئے ہیں یہاں تک کہ قرآن شریف کے محاورات کی تائید میں ان کے شعر تفاسیر میں بطور حجت پیش کئے جاتے ہیں اور اس سے انکار کرنا ایسی جہالت ہے کہ کوئی اہل علم اس کو قبول نہیں کرے گا ما سوا اس کے یہ محاورہ صرف گزشتہ زمانہ کے اشعار میں ہے بلکہ ہمارے مولیٰ رسول کریم ﷺ کی احادیث سے بھی اس محاورہ کی تائید ہوتی ہے مثلاً ذرہ مشکوۃ کھولو اور كِتَابُ الایمان کے صفحہ ۳ میں اس حدیث کو پڑھو جو لا يشعر ابو محمد الیزیدی کا ہے۔دیوان الحماسة صفحه ۴۶۰ ایڈیشن مذکور یہ شعر مَعْدَان بن عُبيد الطَّائی کا ہے۔دیوان الحماسة صفحه ۴۲۵ ایڈیشن مذکور