حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 325
حیات احمد ۳۲۵ جلد پنجم حصہ اول لائے ہیں کہ تا اس ملک کے غافلوں کو اپنی پاک زندگی کا نمونہ دکھلا دیں اور تا لوگ ان کے مقدس اعمال کو دیکھ کر اُن کے نمونہ پر اپنے تئیں بناویں اور اس تعریف میں یہاں تک اصرار کیا گیا تھا کہ اسی ایڈیٹر ناظم الہند نے اپنے پرچہ مذکور یعنی ۱۵ مئی ۱۸۹۷ء کے پر چہ میں جھوٹ اور بے شرمی کی کچھ بھی پروا نہ کر کے یہ بھی شائع کر دیا تھا کہ یہ نائب خلیفہ اللہ سلطان روم جو پاک باطنی اور دیانت اور امانت کی وجہ سے سراسر نور ہیں یہ اس لئے قادیان میں بلائے گئے ہیں تا کہ مرزائے قادیان اپنے افتراء سے اس نائب الخلافت یعنی مظہر نور الہی کے ہاتھ پر تو بہ کرے اور آئندہ اپنے تئیں مسیح موعود ٹھہرانے سے باز آ جائے اور ایسا ہی اور بھی بعض اخباروں میں میری بدگوئی کو مد نظر رکھ کر اس قدر اس شخص کی تعریفیں کی گئیں کہ قریب تھا کہ اس کو آسمان چہارم کا فرشتہ بنادیتے لیکن جب وہ میرے پاس آیا تو اس کی شکل دیکھنے ہی سے میری فراست نے یہ گواہی دی کہ یہ شخص امین اور دیانت دار اور پاک باطن نہیں ہے اور ساتھ ہی میرے خدا نے مجھ کو القا کیا کہ رومی سلطنت انہی لوگوں کی شامت اعمال سے خطرہ میں ہے کیونکہ یہ لوگ کہ جو على حسب مراتب قرب سلطان سے کچھ حصہ رکھتے ہیں اور اس سلطنت کی نازک خدمات پر مامور ہیں یہ اپنی خدمات کو دیانت سے ادا نہیں کرتے اور سلطنت کے سچے خیر خواہ نہیں ہیں بلکہ اپنی طرح طرح کی خیانتوں سے اس اسلامی سلطنت کو جو حرمین شریف کے محافظ اور مسلمانوں کے لئے مغتنمات میں سے ہے کمزور کرنا چاہتے ہیں۔سوئیں اس الہام کے بعد محض القاء الہی کی وجہ سے حسین یک کامی سے سخت بیزار ہو گیا، لیکن نہ رومی سلطنت کے بغض کی وجہ سے بلکہ محض اس کی خیر خواہی کی وجہ سے۔پھر ایسا ہوا کہ ترک مذکور نے درخواست کی کہ میں خلوت میں کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔چونکہ وہ مہمان تھا اس لئے میرے دل نے اخلاقی حقوق کی وجہ سے جو تمام بنی نوع کو حاصل ہیں یہ نہ چاہا کہ اُس کی اس درخواست کو رد کروں سو میں نے اجازت دی کہ وہ میرے