حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 17 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 17

حیات احمد ۱۷ جلد پنجم حصہ اول ہمارے امام و مقتدا سیدنا مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام ہمیشہ اپنے ملنے والے دوستوں اور غلاموں کو تاکید پر تاکید فرماتے۔بار بار قادیان آیا کریں“۔جب کوئی مہمان واپس جانا چاہتے تو فرماتے۔ابھی آپ ٹھہر جائیں ابھی اور ٹھہر جائیں۔اس صحبت کو غنیمت سمجھیں۔کیا معلوم پھر کبھی ملاقات نصیب بھی ہوگی یا نہیں احباب اگر کسی ضرورت کا اظہار کرتے اور کہتے کہ فلاں کام ہے۔اور فلاں حاجت تو بعض اوقات حضور فرماتے۔ساری عمر دنیا کے دھندوں اور ضروریات کے حصول میں خرچ کر دی کچھ عاقبت کی بھی فکر کرنی چاہیئے۔اجازت بھی حضور دیتے تو فرمایا کرتے اور بتاکید فرماتے کہ خط لکھتے رہیں۔یاد کراتے رہیں، کیونکہ خط بھی نصف الملاقات ہوتا ہے۔الغرض حضور کی دلی خواہش اور سچی آرزو ہوتی کہ لوگ کثرت سے قادیان آیا کریں، حضور کی صحبت سے خود فیض پائیں۔نور ایمان اور معرفت و یقین حاصل کریں۔خدا پر زندہ ایمان اور گناہ سوز ایمان کے حصول کا واحد ذریعہ بار بار آنا اور صحبت میں رہنا بتایا کرتے جہاں خدا کے نشانوں کی بارش اور تازہ بتازہ کلام الہی کا نزول ہوا کرتا۔خدا کا نبی علیہ الصلواۃ والسلام اکثر خدا کی وحی سناتا خدا کا کلام پڑھتا اور اس کی باتیں سنایا کرتا جو بعض اوقات اسی دن اور بعض اوقات دوسرے دن اور بعض اوقات دو چار روز میں اور بعض اوقات کچھ عرصہ بعد پوری ہو کر مومنین کے ایمان کی زیادتی و تازگی اور یقین دعرفان کی پختگی کا موجب ہوتیں۔خدا کی قدرت تامہ کے کرشمے اور علم کامل کے نشانات دیکھنے میں آتے۔غیب پر مشتمل خبروں اور خدا کی بتائی ہوئی پیشگوئیوں کا پورا ہونا ایک زندہ ایمان اور پختہ یقین کا موجب ہوا کرتا۔ایسا کہ گویا خدا نے چہرہ نمائی فرما دی اس کے علاوہ بے انداز فیوض بے حساب برکات حضور کی صحبت میں میسر آیا کرتے مگر اس وقت میں اسی خاص امر کا ذکر کروں گا۔۲۹ جولائی ۱۸۹۷ء کا واقعہ ہے کہ حضور نے خواب منذر دیکھا۔جو حضور کے اپنے الفاظ میں درج کرتا ہوں :۔۲۹ جولائی ۱۸۹۷ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاعقہ مغرب کی طرف سے میرے مکان کی طرف چلی آتی ہے اور نہ اُس کے ساتھ کوئی آواز ہے اور نہ اس نے