حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 16 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 16

حیات احمد ۱۶ جلد پنجم حصہ اول بزدلی سے، ہمت پستی سے اور بلند خیالی یاس و نومیدی سے بدل چکی تھی حتی کہ برسراقتدار اور حاکم قوم نے ان کو اچھوت بنا کر گویا دائرہ انسانیت سے خارج کر رکھا تھا۔مگر دنیا جانتی اور تاریخ شاہد ہے کہ باوجود اس قدر پستی اور گراوٹ کے اور ایسے ذلت و ادبار کے گڑھے میں گر جانے کے خدا کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت تعلیم اور تربیت نے ان میں کیا روح پھونکی؟ کس معراج وترقی پر پہنچایا؟ اور وہ کس طرح بام اوج پر جا پہنچے حتی کہ حکمرانی و جہاں بانی کے اہل بن گئے۔ہمارے آقا سید نا رسول عربی واقعی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل دنیا کی کیا حالت تھی؟ اہلِ عرب کس حالت کو پہنچ چکے تھے ؟ پاس پڑوس کی دنیا ان کو کس طرح ذلّت وحقارت سے دیکھتی اور یاد کرتی تھی ؟ ان کا برسر اقتدار آنا اور بادشاہ و حاکم بن جانا تو در کنار دنیا ان کو اپنا محکوم یا رعیت بنانا موجب عار اور باعث ذلت سمجھا کرتی تھی۔ان کے اخلاق و عادات کی گراوٹ۔ان کی لوٹ مار کی دھاک اور جنگ و جدال کی کثرت و شدت اور طوالت۔افعال قبیحہ اور اعمال شنیعہ کا اتنا شہرہ و چر چا تھا کہ ان کے زمانہ کا نام ہی زمانہ جاہلیت اور رسوم و اعمال کا نام بھی رسوم جاہلیت پڑ گیا تھا۔مگر با ایں ہمہ جب انہوں نے رسول خدا سرور انبیاء شاہ لولاک کی آواز پر لبیک کہی جب وہ محبت اور اخلاص سے آپ کے گرد جمع ہو گئے جب انہوں نے آپ کی کامل اطاعت اور کامل پیروی کی۔قرآن سنا۔آیات اللہ دیکھیں آپ سے تعلیم و تربیت پائی تو پھر وہ کیا بن گئے اور کہاں سے کہاں جا پہنچے دنیا کے سامنے ہے۔دنیا اس کو بھول سکتی ہے نہ کبھی بھولے گی۔خدا کے انبیاء اور اس کے رسول اور اس کے برگزیدگان علیهم الصلوۃ والسَّلام ایک ہی جو ہر کے ٹکڑے اور ایک ہی لعل کے پارے اور ایک ہی ہیرے کے اجزا ہوتے ہیں۔ان کا منبع ایک۔ان کا سر چشمہ وہی اور ماخذ واحد ہوتا ہے۔سب ایک ہی منبع سے نور پاتے ایک ہی چشمہ سے فیض پاتے اور ایک ہی ان کا مرکز وماخذ ہوا کرتا ہے اسی لئے ان صدیقوں کی تعلیم ایک، ہدایت ایک اور کلمہ بھی ایک ہی ہوتا ہے البتہ کام کی نوعیت و اہمیت مشن کی عظمت و وسعت۔زمانہ کی ضرورت اور حالت و نزاکت کے مد نظر فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ کا فرمان بالکل صحیح ، درست اور حق و راست ہے۔