حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 18
حیات احمد ۱۸ جلد پنجم حصہ اول کوئی نقصان کیا ہے بلکہ وہ ایک ستارہ روشن کی طرح آہستہ حرکت سے میرے مکان کی طرف متوجہ ہوئی ہے اور میں اس کو دور سے دیکھ رہا ہوں اور جب کہ وہ قریب پہنچی تو میرے دل میں تو یہی ہے کہ یہ صاعقہ ہے مگر میری آنکھوں نے صرف چھوٹا سا ستارہ دیکھا جس کو میرا دل صرف صاعقہ سمجھتا ہے۔پھر بعد اس کے میرا دل کشف سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے الہام ہوا مَا هذَا إِلَّا تَهْدِيدُ الْحُكَّامِ یعنی یہ جو دیکھا اس کا بجز اس کے کچھ اثر نہیں کہ حکام کی طرف سے کچھ ڈرانے کی کارروائی ہوگی اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔پھر بعد اس کے الہام ہوا قَدِ ابْتُلِيَ المُؤْمِنُونَ تریاق القلوب صفحه ۹۱ - روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۴۱) ۲۹ / جولا ئی کو اللہ تعالیٰ ایک کیفیت دکھاتے ہیں۔یکم اگست کو ڈپٹی کمشنر امرتسر وارنٹ جاری کرتا ہے۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنے والے واقعہ کی قبل از وقت حضور کو اطلاع دی تھی۔حضور نے یہ رویا اور الہامات حسب معمول سنا دیئے اور دوسرے معزز احباب و اراکین کے ساتھ میں بھی ان سننے والوں میں تھا۔یہ الہامات ہم نے قبل از وقت سنے اور براہ راست خدا کے نبی و رسول علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان سے سنے، علی رؤس الا شہاد سنے۔آپ کے لب ہائے مبارک کو ہلتے دیکھا۔اور آواز کو اپنے کانوں سنا۔ابھی چند روز ہی گزرے ہوں گے کہ گورداسپور سے چودھری رستم علی صاحب نے کسی احمدی دوست کے ذریعہ اطلاع بھجوائی کہ امرتسر سے حضور کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔امرت سر کے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے آج ایک تار ملا ہے کہ وہ وارنٹ روک لیا جائے۔گووارنٹ ابھی تک کوئی نہ پہنچا۔مگر تار سے اتنا پتہ ضرور ملتا تھا ہے کہ آج وارنٹ جاری کئے جاچکے ہیں کوئی انتظام کر لیا جاوے“۔دوسری طرف سے ایک دوست نے امرتسر سے آکر حضرت کے حضور عرض کیا کہ ”میں نے امرتسر میں سنا کہ کسی پادری نے حضور کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ دائر کیا ہے۔اور کہ وہاں سے