حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 15 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 15

حیات احمد مسرت حاصل کر رہا ہوں۔۱۵ سلسلہ احمدیہ کی تاریخ کا ایک قیمتی ورق خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم جلد پنجم حصہ اول نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ هوالنَّ قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اس بے نشان کی چہرہ نمائی یہی تو ہے كُونُوا مَعَ الصُّدِقِيْنَ ا حکم الہی ہے جس میں بیسیوں حکمتیں ، ہزاروں برکات و فیوض اور سعادت وفلاح دارین کے سامان جمع ہیں۔جو نہ شمار سے گنے اور وزن سے تو لے جاسکتے ہیں۔اور نہ ہی کوئی ظاہری پیمانہ ان کو ماپ سکتا ہے جیسا کہ وہ ٹولے جاسکتے ہیں نہ ہی چھوٹے اور چکھے جاسکتے ہیں کیونکہ وہ تاثرات روحانی، ذہنی اور بالکل غیر مرئی ہوتے ہیں۔حکماء کا قول صحبت صالح ترا صالح کند آیات محولہ بالا ہی کا ترجمہ اور خلاصہ ہے صحبت نیک و بد کے اثر ونتائج کا کبھی کسی نے انکار نہیں کیا اور یہ ایک مجرب و مسلم بلکہ مشہور حقیقت ہے اور قرآن حکیم نے بھی كُونُوا مَعَ الصُّدِقِيْنَ کا ارشاد دے کر اس پر مہر تصدیق ثبت فرما دی ہے بنی اسرائیل مدتوں سے غلامی اور ذلت کی زندگی بسر کرتے چلے آئے ہیں اور ذلیل بلکہ ارذل کاموں اور پیشوں میں پڑے رہنے سے جس طرح پست اخلاق۔دون ہمت اور ننگ انسانیت بن چکے تھے وہ کوئی پوشیدہ بات نہیں۔مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توجہ انفاس قدسیہ اور آپ کی صحبت نے ان میں کیا تغیر پیدا کیا؟ کیسی تبدیلی کر دی اور اس کو کیا سے کیا بنایا ہے؟ وہ ذلیل تھے گمین تھے اور ادنی ترین کاموں میں منہمک رہنے کی وجہ سے اُن کی جرات التوبة : ١١٩