حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 14
حیات احمد ۱۴ جلد پنجم حصہ اوّل فہرست ہم آخر کتاب پر شائع کریں گے۔جلسہ میں جو تقریر میں ہوئی ہیں وہ بھی اپنے اپنے مقام پر درج کرتے ہیں۔اس جلسہ کے متعلق قابل ذکر دو امر ہیں کہ حضور مسیح الزمان کو ایک مجمع کثیر کے سامنے اپنی عملی زندگی سے ان نصائح اور ہدایات کے مؤثر بنانے کا موقعہ ملا جو آپ نے فرمائی تھیں۔جلسہ بہت بارونق اور نرالی قسم کا تھا۔بہت سے جسے دیکھے گئے اور ناظرین نے بھی دیکھے ہوں گے اس جلسہ کی علت غائی اور غرض و غایت اگر کچھ تھی تو اسلام اور اس کا اصلی نمونہ۔خدا پرستی اور خدا نمائی مقصود تھا۔بجز اس کے اور کوئی ذکر اور بات ہی نہ تھی۔الغرض پوری کامیابی کے ساتھ یہ جلسہ بھی ختم ہوا اور دوسری بات جس کا ہم ذکر کرنا چاہتے تھے خصوصیت سے قابل ذکر ہے وہ یہ کہ اسی جلسہ کی تقریب پر سالانہ جلسہ کی روئیداد اور تقریروں کو شایع کرنے کی تجویز کی گئی جیسا کہ ہم نے کسی موقع پر ظاہر کیا تھا۔یہ تجویز جناب مخدومنا مولانا مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے پیش کی تھی۔اور ایسی رپورٹ کا مرتب ہونا بھی حضرت اقدس کے مشن کی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ مفتری اور منصوبہ بازوں کی باتوں کی اشاعت خدا کب چاہتا ہے۔چنانچہ اسی تحریک کی وجہ سے یہ رپورٹ مرتب ہوئی اور یہ خدا کا خاص فضل اور احسان ہے کہ اس کام کی توفیق نیازمند کودی اور اس سے یہ خدمت لینی چاہی۔“ مقدمہ مارٹن کلارک میں ایک شاہد عینی کا بیان اگر چہ میں بطور ر ایک شاہد عینی کے اس مقدمہ کے متعلق تفصیل سے لکھ آیا ہوں اور دوران مقدمہ میں بھی جنگ مقدس ثانی کے عنوان سے روز مرہ کی روئیداد شائع کرتا رہا ہوں۔لیکن اس سلسلہ میں مکرم حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے الحکم ۲۱ تا ۲۸ رنومبر ۱۹۳۹ء میں ایک مضمون شائع کرایا تھا۔میں اسے یہاں درج کر دیتا ہوں اس مضمون میں حضرت بھائی جی نے مولوی محمد حسین صاحب کے معاملہ کرسی کے متعلق جو روایت بیان کی ہے دراصل وہ کرسی کا تیسرا واقعہ معلوم ہوتا ہے اور اس طرح پر روایات میں کوئی اختلاف نہیں۔میں نے صرف اس واقعہ تک لکھا ہے جس کا ذکر سلسلہ کی تحریروں میں ہے۔بہر حال یہ دلچسپ اور حقائق آفرین بیان ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے جسے الحکم نے پندرہ سال پہلے محفوظ کیا تھا اور اب میں حیات احمد کا ایک جز و بنا کر محفوظ کرنے کی مزید