حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 292 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 292

حیات احمد ۲۹۲ جلد پنجم حصہ اول ۱۸ راپریل ۱۸۹۹ قبل از تهجد (۴) آج رات یہ عجیب و غریب نظارہ دیکھتا ہوں کہ حضرت امام ہمام علیہ السلام تقویٰ طہارت کا وعظ فرما رہے ہیں اور عجیب عجیب کلمات طیبات بڑے جوش سے بیان فرما کر اپنے مریدوں کو تنبیہ کر رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تم سب ہوش کرو اور اتقا کی طرف بہت رجوع لاؤ اور اللہ اور اس کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام سے ڈرو اور دل و جان سے سچے اعتقاد کے ساتھ نماز ادا کرو اور عبادت کرو کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَر یعنی نما ز روکتی ہے بُرے اقوال اور بُرے افعال سے اور پھر قرآن بار بار منادی کر کے کہہ رہا ہے کہ یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَا مِنُوْا بِرَسُولِهِ یعنی اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ڈرو اللہ سے اور ایمان لاؤ ساتھ اس کے رسول کے اور ہم دعا کر رہے ہیں کہ خدا یا خشک ڈالی ہمارے باغ سے کاٹ ڈال۔جب حضرت کے منہ سے یہ کلمات نکلے تو کل حاضرین مجلس بلند آواز سے گڑ گڑا کر ایسے روئے کہ حواس باختہ ہو گئے۔پھر فرمایا کہ ہوش کرو إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ یعنی تحقیق فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔۲۷ اپریل ۱۸۹۹، قبل از تهجد (۵) آج رات یہ عاجز اپنے آپ کو ایک بڑے اونچے پہاڑ پر دیکھتا ہے ایک اونچے ٹیلے پر جا چڑھا ہوں نیچے کی طرف نگاہ کی تو معلوم ہوا کہ اس پہاڑ کے دامن میں ایک بڑا بھاری دریا بہہ رہا ہے پانی ایسا صاف و شفاف پاکیزہ ہے کہ باوجود اس بلندی کے چہرہ اور بدن اس میں برابر نظر آتا ہے اور اُس ٹیلے سے پہاڑ کے نیچے تک بہت ہی عمدہ پختہ سیٹرھیاں بڑی فراخ بنی ہوئی ہیں۔ایک بزرگ مجھے وہاں فرماتے ہیں کہ ان سیڑھیوں کے راستہ نیچے جا کر اس دریا میں خوب غوطے لگا کر نہاؤ اور فسل