حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 293
حیات احمد ۲۹۳ جلد پنجم حصہ اول کر کے بدن صاف کر لو، یہ دریائے وحدت ہے اس میں غوطہ لگا نا آپ کے واسطے بڑا ہی ضروری ہے میں حسب ایما بزرگ موصوف دریا کے کنارے پر گیا ہوں۔دریا بڑا ہی گہرا معلوم ہوتا ہے پانی تو خوب ہی صاف ہے مگر میں گہرائی سے ڈرتا ہوں مجھے غوطہ لگانے سے خوف معلوم ہوتا ہے مگر وہ بزرگ پیچھے سے دھکیلتے ہیں اور دریا کی طرف رجوع دلاتے ہیں۔میں نے دریا کے اندر جا کر غسل کیا اور بعد فراغت انہیں سیڑھیوں کے راستے پھر پہاڑ پر چڑھ گیا ہوں۔اللہ اکبر کی آواز کان میں آئی اور چونک اٹھا جسم کا نپتا تھا چونکہ تہجد کا وقت تھا وضو کر کے نماز میں مشغول ہو گیا اور استغفار پڑھنا شروع کیا۔۲۹ را پریل ۱۸۹۹، قبل از تهجد (1) آج رات کو ایک مجلس میں ہوں ہزار ہا مردمان کا انبوہ ہورہا ہے ان سب کی نگہبانی اس عاجز کے سپرد ہوئی ہے اس وقت کا سماں عجیب تھا مکان فراخ اور روشنی ایسی کہ باوجو درات ہونے کے ہزار ہا لوگ نظر آتے تھے میں کبھی تو بیٹھ جاتا اور کبھی اٹھ کر سب کی طرف نظر ڈالتا تھا۔ایک شخص ہندو کو بھی وہاں دیکھا مگر میں ابھی اس کے بارہ میں سوچتا ہی تھا کہ کسی نے اس کو اس مکان کے احاطہ سے باہر نکال دیا۔میں نے پوچھا کہ یہ شخص کیوں نکالا گیا تو مجھے جواب ملا کہ اس نے آپ کی شکایت کی تھی اس لئے اس مکان سے خارج ہوا۔اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ عالی شان سواروں کی جماعت تشریف لائی ابھی جماعت پاک کچھ فاصلہ پر ہی تھی کہ خوشبو سے مکان مہک گیا اور دماغ معطر ہو گئے۔صلى الله میں نے دریافت کیا کہ سُبحَانَ اللہ اس خوشبو کی لپیٹیں اس مکان میں ہمارے اردگرد کہاں سے آئی ہیں؟ کسی صاحب نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ معہ اصحاب کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین اور نیز حضرت اقدس مرزا صاحب علیہ السلام تمہاری طرف تشریف لا رہے ہیں، کیا تم نے نہیں دیکھا؟ میں نے عرض کیا خوشبو سے اس وقت معطر تو ہورہا ہوں مگر ابھی تک زیارت سے مشرف