حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 284
حیات احمد ۲۸۴ جلد پنجم حصہ اول کی زیارتیں کرنا چاہتے تھے وہ موصل سے نیچے کی طرف چلے گئے اس کے لئے ہم نے بہت سے درویشوں سے دریافت کیا جو ان ملکوں میں مجھ کو ملے انہوں نے مجھ کو بتلایا کہ اس سے بہتر راستہ کوئی نہیں اور یہی قدیم سے راستہ چلا آتا ہے۔پس ہندوستانی درویشوں کی شہادت ایک زبردست شہادت ہے کہ یہی قدیم کا ایک راستہ ہے اور لوگ اسی راستے سے اب تک آتے ہیں کیونکہ اس راستہ میں جگہ جگہ آبادیاں ہیں پانی ملتا ہے بھیڑوں بکریوں کے چرواہے اپنے ریوڑوں سمیت خیمے ڈالے پڑے ہیں اور تھکے ماندے انسان کے لئے انسان کی شکل بھی سہارا ہو جاتی ہے۔چہ جائیکہ وہ آبادیوں اور بستیوں کو پاتا چلا جائے۔ہوائی راستہ جن لوگوں نے ہوائی کمپنیوں کے نقشے کو دیکھا ہے جو عراق، ایران، مصر وغیرہ کے درمیان سفر کرا رہی ہیں انہوں نے دیکھا ہوگا کہ اس نقشہ میں نصیبین کو ایک اہم ہوائی مرکزی جگہ میں دکھایا گیا ہے اور اس نقشہ سے عراق ، شام ، ایران وغیرہ کے حدود کی وضاحت اور بھی عمدگی سے ہوتی ہے۔قاش لی اور نصیبین یہان ایک دھوکہ اور لگ سکتا ہے کہ نصیبین کے مقابلہ میں قاش لی بھی ایک جگہ ہے اور اس کو کیوں اہمیت نہ دی جائے اس کے لئے میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ قاش لی ایک جدید قصبہ ہے جو فرنچ حکومت نے آباد کیا ہے مہاجرین ایران کے لئے کیونکہ نصیبین کے قریب یہ حصہ فریج کی تقسیم میں جنگ عظیم کے بعد آ گیا تھا اور کوئی یہاں آبادی نہ تھی ادھر ارمنوں کے لئے ایک بستی کی ضرورت تھی اس لئے یہ بستی آباد کی گئی اس لئے اس بستی کو نہ اہمیت ہے اور نہ کوئی تاریخی مقام ہے نہ قدیم ہی ہے اگر جنگ کی تقسیم میں یہ جگہ فرنچ کے حصہ میں نہ آتی تو شاید یہاں کوئی بستی بنتی ہی نہ اس لئے یہ جگہ زیر بحث آ کیسے سکتی ہے اس لئے میں اس کے ذکر کو نظر انداز کرتا ہوں۔