حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 283
حیات احمد ۲۸۳ جلد پنجم حصہ اوّل عراق کی طرف آنے کے لئے اور موصل سے شام میں جانے کے لئے ، ایران سے شام کی طرف جانے کے لئے اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہاں اس پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ شام سے عراق آنے کے لئے صحرا کا راستہ بھی ہے پس صحرا کے راستہ کے متعلق یہ جان لینا چاہیے کہ صحرا میں سے گزر کر انسان بغداد آ سکتا ہے اور بغداد موصل سے ۲۰۰ میل نیچے کی طرف ہے۔کارا صحرا کا راستہ پس اگر ایک شخص صحرا کو عبور کر کے بغداد آئے تو پھر اس کو دوسو میل سے زائد اوپر کی طرف جانا پڑے گا ورنہ سمندر کا سفر اختیار کرنا ہوگا لیکن یہ بھی تب کہ جس زمانے کے متعلق ہم بحث کر رہے ہیں اس زمانے میں کوئی شخص صحرا کو عبور کر کے آتا یہ خیال اس عقلمند انسان کے دماغ میں آج سے ۱۹ سو سال قبل آنا تو ایک طرف رہا آج ۱۹ سو سال بعد بھی نہیں آ سکتا کہ کوئی انسان یا قافلہ اس صحرا میں سے جو پانچ سومیل سے زائد ہے جس میں نہ پینے کے لئے پانی ہے اور نہ کھانے کے لئے دانہ میسر ہے اکیلا یا دو تین آدمیوں کے ساتھ سفر کر سکتا تھایا کر سکتا ہے پس جبکہ یہ آج بھی ممکن نہیں تو اس کا خیال ہی لا نا فضول ہے پھر نیچے سے اوپر جانا ایک بریکار بات ہے جتنی دیر میں دمشق سے انسان صحرا عبور کرے گا اتنی دیر میں قرص سے چل کر انسان حدود ایران میں داخل ہو جائے گا پس اقرب طریق ہے یہی۔ہندوستانی سیاح ہندوستان کے درویش یا زائرین بڑے منچلے ہیں اور بڑی بڑی مشقتیں اٹھا کر ان ممالک کی زیارتوں کے لئے آتے ہیں ان میں سے اکثر سے ہم نے دریافت کیا کہ تم کس راستے سے آئے ہو تو ان میں جس قدر سفر کرنے والے لوگ تھے انہوں نے مجھ کو بتلایا کہ وہ ہندوستان سے ایران کے راستے سے ہوتے ہوئے موصل سے گزر کر نصیبین کے راستہ شام میں داخل ہوئے اور جو پہلے عراق