حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 285
حیات احمد ۲۸۵ جلد پنجم حصہ اوّل میری تحقیقات کا خلاصہ میری تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ نصیبین ایک بہت پرانا قصبہ ہے اور جب سے وہ آباد ہوا ہے اپنے مقام کی اہمیت کے لحاظ سے ہر آنے جانے والے کا صح نظر رہا ہے اور اس کو چھوڑ کر عراق وغیرہ کی طرف جانا نا ممکن تھا اور اب تک پیدل جانا ناممکن ہے اس لئے حضرت عیسی کے ہندوستان میں آنے کے لئے اگر کوئی راستہ ہو سکتا ہے تو وہ نصیبین ہی ہو سکتا ہے اور کوئی راستہ نہیں ہوسکتا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سفر اس پر مہر صداقت ہے۔ایک امریکن ہم سفر اس موقعہ پر مجھے ایک امریکن ہم سفر یاد آیا جو ہمارے ساتھ تھا اس نے مخدومی ومکرمی چو ہدری نواب محمد الدین صاحب سے ایک گفتگو کے دوران میں کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آسکتا کہ مسیح نے اپنا پیغام دنیا کو تین سال میں کس طرح پہنچا دیا جس کام کے لئے وہ آیا تھا اس کے لئے تین سال کی مدت کافی نہیں ہوسکتی۔پس عقلمند لوگ اس امر کو محسوس کرتے ہیں کہ یہ امر قابل عقل نہیں کہ مسیح کو آسمان پر لے جاکر کامیاب نبی ثابت کیا جاوے۔نصیبین کی موجودہ حالت نصیبین اب تر کی حدود میں واقعہ ہے اس وقت ایک معمولی قصبہ ہے مگر کسی وقت کی عظمت کا اظہار کر رہا ہے بہت سے لوگ جنگ کے بعد اس کو چھوڑ کر چلے گئے ان کے مکانات گرے پڑے ہیں چونکہ تر کی حدود کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے اس لئے ترکی فوج کا کیمپ اس جگہ ہے اور کچھ ترک آفیسر یہاں رہتے ہیں۔