حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 279 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 279

حیات احمد ۲۷۹ جلد پنجم حصہ اول بار بار خدا کے سامنے جھک کر کہتا تھا کہ میرے رب مجھے مت چھوڑ۔پس خدا نے اس کی دعائیں سنیں اور اسے زندہ صلیب سے اتارا۔چند دن کے بعد جب وہ سفر کرنے کے قابل ہوا تو اس نے یروشلم کی اُس بستی کو جو انبیاء کے قتل پر تکی ہوئی تھی چھوڑ دیا اور ہجرت کی اور کہہ دیا کہ نبی اپنے ملک میں نہیں پہچانا جاتا اس نے دوسری بھیڑوں کی طرف رخ کیا جو بھیڑیوں کے ڈر سے ہندوستان اور افغانستان کے دور دراز ملکوں میں بھاگ گئی تھیں اور ریوڑ سے الگ ہوگئی تھیں پس چرواہے نے ان کو جمع کرنا چاہا اور کہا کہ میں ان کو جانتا ہوں اور وہ میری آواز کو سنتی ہیں پس مسیح ان کی تلاش میں روانہ ہوا اور قبل اس کے کہ ہند میں داخل ہو اس کا گزر نصیبین کے میدان میں سے ہوا پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چاہا کہ اُن نشانوں کو ڈھونڈا جائے جو کسی گزرنے والے کے پاؤں سے لگ گئے ہوں۔اس غرض کے لئے آپ نے ایک وفد تیار کیا تھا کہ وہ اس راستے کی تحقیق کرے مگر خدا کے علوم میں اس وفد کا نہ جانا مقدر تھا پس وہ وفد نہ جاسکا اور بات رہ گئی۔مجھے یہ فخر کیسے ملا ! میرے والد حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایک ایسے بزرگ ہیں جن کو ہمیشہ یہ تڑپ رہتی ہے کہ حضرت مسیح موعود کے منہ کی باتیں پوری ہوں اور خدا کا جلال ظاہر ہو اگر چہ اس کے لئے کتنی ہی بڑی قربانی کرنی پڑے۔میں نے دیکھا اور مجھ سے بڑھ کر ان کو قریب سے کون دیکھ سکتا ہے کہ ان کا دل سلسلہ کے درد سے بھرا ہوا ہے اور کبھی کبھی ان کی آنکھوں سے بات کرتے ہوئے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔یہی تڑپ نصیبین کے متعلق ان کے اندر کام کرتی رہی اور میں کبھی کبھی ان کے جوش کو دیکھا کرتا تھا کہ وہ کس طرح پھوٹ رہا ہے مگر وہ کچھ نہ کر سکتے تھے۔میں جب اس سفر کے لئے جانے لگا تو آپ نے مجھے نصیبین کے راستے سے جانے کی ہدایت کی اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس مقام پر پہلے جو شخص جائے تو وہ میرا ہی لڑکا ہو تو کیسی خوشی ہو۔پس تم مصر کو اسی راستے سے