حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 230 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 230

حیات احمد ۲۳۰ جلد پنجم حصہ اول ایک رسالہ حضرت میر حامد شاہ صاحب کی تالیف سے شائع کیا جو ان کے حالات پر مشتمل ہے اس واقعہ ناگزیر پر حضرت چودھری رستم علی خان صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار منظوم کیا جسے میں یہاں درج کرتا ہوں۔بقیہ حاشیہ۔مہاراجہ صاحب نے حضرت مولوی صاحب کو بلا بھیجا اور کہا کہ دیکھئے مولوی صاحب آپ کے خلیفہ نے اذان کہی ہے۔اس اذان میں حَيَّ عَلَى الصَّلوة۔حَيَّ عَلَى الْفَلاح کے الفاظ آئے ہیں۔کیا ان کا یہی مطلب ہے کہ آکر نماز پڑھو۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ یہ مطلب صحیح ہے۔مہاراجہ صاحب نے فرمایا دیکھئے مولوی صاحب پھر یہ خدا کا حکم ہے نا کہ نماز کی طرف آؤ۔مولوی صاحب نے اثبات میں جواب دیا۔مہاراجہ صاحب نے کہا کہ " جو خدا کا حکم سن کر نماز پڑھنے نہ آئے تو وہ بہت ہی گنہ گار ہے۔حضور نے فرمایا۔بالکل درست ہے، مہارا جہ صاحب نے کہا کہ ”ہماری رعایا غریب اور کمزور ہے۔اب اگر خدا کا یہ حکم سن کر وہ نماز نہیں پڑھیں گے تو اس نافرمانی کی وجہ سے ان پر خدا کا عذاب نازل ہوگا اس لئے ہم نے اذان دینے کا حکم ہی بند رکھا ہے۔“ حضرت مولوی صاحب نے واپس آکر مجھے یہ واقعہ بتلایا اور کہا۔دیکھو کس طریقہ سے اذان کی بندش کیلئے ہمیں کہا ہے۔نیز یہ بھی کہا کہ آپ کو خلیفہ کا خطاب مہاراجہ صاحب نے دیا ہے۔اس روز کے بعد سے مولوی صاحب اور دیگر احباب نے مجھے خلیفہ کے لقب سے ملقب کرنا شروع کر دیا اس سے پہلے مجھے کوئی خلیفہ نہیں کہتا تھا۔دریا میں گرنے کا واقعہ ایک دفعہ دسمبر کے مہینہ میں حضرت مولوی صاحب نے مجھے جموں سے بھیرہ سامان لانے کیلئے بھیجا ان دنوں دریائے توی پر پل نہیں ہوتا تھا۔اور سیالکوٹ سے جموں توی تک تانگے پر جایا کرتے تھے۔اور وہاں سے کشتی کے ذریعہ دریا کو پار کرتے تھے۔جب میں بھیرہ سے واپس آیا تو دریائے توی کے کنارے شام کے وقت پہنچا ان دنوں شہر جموں کے دروازے شام کے بعد بند ہو جایا کرتے تھے اور اگر کسی کو شہر میں جانا ہوتا تو بہت سا چکر لگا کر جنگل کے راستے ایک طرف سے شہر میں جاسکتے تھے۔اس لئے بہت سے لوگ جو اس وقت کنارہ پر موجود تھے جلدی پار ہونے کے خیال سے ایک ہی کشتی میں سوار ہو گئے۔جو کنارہ پر موجود تھی چند ایک خچر بھی جمع سامان کشتی والوں نے لاد لئے ، اس لئے کشتی بوجھل ہو کر توی کے درمیان میں ڈوب گئی اور ہم سب دریا میں گر گئے۔میں نے مولوی صاحب کی ایک ہلکی سی رضائی اپنے اوپر لیٹی ہوئی تھی میں نے اسے اپنے اوپر ہی لیٹے رہنے دیا۔میرے ایک ہاتھ میں ہینڈ بیگ تھا جس میں مولوی صاحب کی بیوی کے پارچہ جات تھے میں نے اسے بھی ہاتھ سے نہ چھوڑا اور دریا میں بہتا اور تیرتا تیر ا د ور نیچے چلا گیا آخر میرا ہا تھ ایک خچر کی دم پر پڑ گیا میں نے دُم پکڑ لیاور محفوظ ہوگیا اور آخر کار جہاں پر کہ