حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 204 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 204

حیات احمد ۲۰۴ جلد پنجم حصہ اول بچپن سے اور بالکل بے شعوری کے سن سے اس پاک بزرگ کتاب سے مجھے اس قد رانس ہے کہ میں اس کا کم و کیف بیان نہیں کر سکتا۔غرض علم تو بڑھ گیا اور مجلس کے خوش کرنے اور وعظ کو سجانے کے لئے لطائف ظرائف بھی بہت حاصل ہو گئے اور میں نے دیکھا کہ بہت سے بیمار میرے ہاتھوں سے چنگے بھی ہو گئے مگر مجھ میں کوئی تبدیلی پیدا نہ ہوتی تھی آخر بڑے خیص بیص کے بعد مجھ پر کھولا گیا کہ زندہ نمونہ یا اُس زندگی کے چشمہ پر پہنچنے کے سوا جو اندرونی الائشوں کو دھو سکتا ہو یہ میل روح سے اترنے والی نہیں۔بادی کامل خاتم الانبياء صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَامُهُ نے کس طرح صحابہ کو منازل سلوک ۲۳ برس میں طے کرائیں۔قرآن ، علم اور آپ اس کا سچا عملی نمونہ تھے۔قرآن کے احکام کی عظمت و جبروت کو مجرد الفاظ اور علمی رنگ نے فوق العادہ رنگ میں قلوب پر نہیں بٹھایا بلکہ حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام سے عملی نمونوں اور بے نظیر اخلاق اور دیگر تائیدات سماویہ کی رفاقت اور پیاپے ظہور نے ایسا لا زوال سکہ آپ کے خدام کے دلوں پر جمایا۔خدا تعالی کو چونکہ اسلام بہت پیارا ہے اور اس کا ابدُ الدھر تک قائم رکھنا منظور ہے اس لئے اس نے پسند نہیں کیا کہ یہ مذہب بھی دیگر مذاہب عالم کی طرح قصوں اور افسانوں کے رنگ میں ہو کر تقویم پارینہ ہو جائے۔اس پاک مذہب میں ہر زمانہ میں زندہ نمونے موجود رہے ہیں۔جنہوں نے علمی اور عملی طور پر حامل قرآن عَلَيْهِ صَلَواةُ الرَّحْمٰن کا زمانہ لوگوں کو یاد دلایا۔اسی سنت کے موافق ہمارے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے مسیح موعود ایدہ اللہ الو دود کو ہم میں کھڑا کیا کہ زمانہ میں وہ ایک گواہ ہو جائے میں نے جو کچھ اس خط میں لکھنا چاہا تھا حضرت اقدس امام صادق علیہ السلام کے وجود پاک کی ضرورت پر چند وجدانی دلائل تھے۔اس اثناء میں بعض تحریکات کی وجہ سے خود حضرت اقدس نے ”ضرورت امام “ پر پرسوں ایک چھوٹا سا رسالہ لکھ ڈالا ہے۔جو