حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 198 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 198

حیات احمد ۱۹۸ جلد پنجم حصہ اول کے گروہ میں رہ کر بھی پاک باز اور عفت ماب ثابت ہو۔وہ مخنث فطرت جس کو ایسے قویٰ سے بہرہ ہی نہ ملا۔اپنی کیا خوبی اور عظمت بتلا سکتا ہے! پس انسان میں فطرتاً ایسے خواص کا ہونا کہ وہ اپنے ہم جنس انسان کی اطاعت کو اپنی غیرت وحمیت کے خلاف دیکھے اور پھر کرے۔اس کی ترقی مدارج کا موجب ہے۔اور یہی وہ راز ہے جو نادان ظاہر پرست اور کوتاہ اندیش لوگوں نے نہ سمجھ کر خلق شیطان پر اعتراض کیا ہے۔شیطان دراصل انسانی مدارج کی ترقی کا ایک ذریعہ ہے مگر بد باطن اور کمزور طبیعت کے لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔یہ ایک کچی فلاسفی ہے۔زہریلی اشیاء مثل سم الفار وغیرہ دنیا میں موجود ہیں۔کیا خدا نے ان کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ نادان انسان کھا کھا کر ہلاک ہوں؟ یا ایک دوسرے کی ہلاکت کا موجب ہوں؟ نہیں ہرگز نہیں وہ تو انسان کی زندگی کی ایک ممد اور معاون چیز ہے اور اُن ہزار ہاز ہروں کی تریاق ہے جو انسان کی اپنی غلط کاریوں سے پیدا ہوتی ہیں۔اصل یہی ہے کہ دنیا میں کوئی چیز مضر نہیں ہے مگر انسان کا استعمال اسے مضر بنالیتا ہے۔ہم ایک اور بات بھی بیان کر دینا چاہتے ہیں کہ جہاں ان اشیاء میں ایسے خواص اور قلوب انسانی میں ایسے مادے بغرض اصلاح انسان رکھے گئے ہیں جو بظاہر اُس کی اصلاح کے دشمن اور جان کے لینے والے قرار دیئے جاسکتے ہیں وہاں ان پر غلبہ پانے اور اقتدار حاصل کرنے کے قومی اس سے زیادہ قوی موجود ہیں لیکن چونکہ اول الذکر دلچسپ اور خوش نما نظر آتے ہیں۔نادان اور ضعیف انسان اُن کا استعمال اور دوسروں کا عدم استعمال شروع کر دیتا ہے۔پھر حسب قانون مستمرہ قدرت اوّل الذکر اپنی زہر پیدا کرتے ہیں اور آخر الذکر کا تریاق کم ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ زہر غالب آجاتی اور تریاق کو بھی زہر کر لیتی ہے انسان کی انٹی لیکجوآل پاورز ( قوائے ذہنی ) کے فلسفہ