حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 197 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 197

حیات احمد ۱۹۷ جلد پنجم حصہ اول آگاہ کر دے۔وہ حضرت مولوی صاحب کے درس قرآنی میں نہایت اخلاص سے شریک ہوتے تھے حضرت مولوی صاحب نے ان کو ایک خط لکھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے اتنا پسند فرمایا کہ ضرورۃ الامام کے ساتھ خصوصیت کے ساتھ شائع فرمایا۔میں نے اس گرامی نامہ کو اپنے ایک نوٹ کے ذریعہ الحکم ۲۲ ا کتوبر ۱۸۹۸ء میں شایع کیا جسے اب یہاں درج کرتا ہوں۔شناخت امام د کسی راستباز اور مامور من اللہ کی پوری اور بچی کامیابی کا معیار وہ فتح ہے جو اُس کو ان دلوں پر حاصل ہوتی ہے جن تک وہ اپنا نہیں اس خدائے لا یزال کا پیام پہنچاتا ہے جس نے اس کو مامور کر کے اصلاح دنیا کے لئے بھیجا ہے۔اور پھر ان مفتوح اور مسخر قلوب میں سے ان دلوں کو اپنے سلاسل اطاعت میں اسیر کر لینا اس کی فتح کی شان کو اور بھی بڑھا دیتا ہے۔جو اپنی نوعیت اور حیثیت میں بہت سے پہلوؤں میں اس کے ہم شکل ہوں۔انسان کی فطرت میں ایک یہ قوت بھی ودیعت رکھی گئی ہے کہ وہ اپنے ہم شکل و ہم جنس کی اطاعت پر خوش نہیں ہوتا۔اور پھر اپنے ہم ملک و ہم قوم کی اطاعت پر اور بھی سستی سے قدم اٹھاتا ہے اور اس سے بھی زیادہ اگر وہ مطاع اُس کا ہی ہم شہر یا ہم محلہ اور اُس کی ہی برادری سے ہو تو اور بھی کم رجوع کرتا ہے۔یہی وہ راز یا سر ہے جو مامور من اللہ کی اطاعت اختیار کرنے میں اکثر لوگوں کے لئے سد راہ ہو جاتا ہے اصل بات یہ ہے کہ ایسی غیرت و حمیت ہوتے ہوئے اگر انسان پھر مامور من اللہ کی شناخت کر کے اس کے پیچھے ہولے تو لا ریب وہ مدارج علیا کا حق دار ہو جاتا ہے۔ہمارے خیال میں یہی وہ راز ہے جو مامور من اللہ کے ساتھ ہونے والوں کو فوز عظیم کے وعدے دیئے گئے ہیں اور یہ بات ہے بھی بیچ ، کیوں کہ زیادہ قابل عزت و وقعت وہی انسان سمجھا جاوے گا جو قوائے شہوانی اور جذبات نفسانی رکھتا ہوا بھی اور حسین و جمیلہ لڑکیوں