حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 195
حیات احمد ۱۹۵ جلد پنجم حصہ اول 66 کیا تو وہاں سے حضرت مولانا نورالدین صاحب نے لکھا کہ فردا فردا چندہ نہ دیا جائے بحیثیت جماعت چندہ دے دیا جائے۔اس کے دو سال بعد غالبا ۱۹۱۱ء میں مولوی محمد حسین صاحب نے جماعت احمد یہ شملہ کو سنجولی میں جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے بلایا اور ہم تمام احمدیوں سے بہت محبت سے ملے سب سے مصافحہ کیا اور بعض کو چھاتی سے لگایا اور وہاں کی مسجد اہلِ حدیث میں جس میں مولوی صاحب خود بھی نماز پڑھا کرتے تھے ہم سب کو نماز با جماعت پڑھنے کی خوشی سے اجازت دی۔مولوی صاحب اب تو آپ بھی کا فر ہو گئے کیونکہ آپ کا فتویٰ یہی تھا کہ احمدیوں سے سلام و کلام کرنے والا بھی کا فر ہے اور آج آپ خود مصافحہ و معانقہ کر رہے ہیں ، تو مولوی صاحب نے مجھے کہا کہ چپ رہو ایسی باتیں مت کرو میں تم لوگوں کو کافر نہیں جانتا۔چنانچہ اس کے بعد انہوں نے منصف دیو کی نندن کی عدالت میں حلفی بیان دیتے ہوئے احمدیوں کی نسبت یہی کہا کہ ہم احمدیوں کو کافر نہیں کہتے یعنی مومن جانتے ہیں اس کے کچھ عرصہ بعد مولوی محمد حسین صاحب پھر شملہ تشریف لائے تو لکڑ بازار میں مستری محمد اسماعیل صاحب جالندھری کی جو میرے بہنوئی تھے دکان پر حسب معمول تشریف لائے بابو عبد الرحمن صاحب شملوی اور مستری محمد اسماعیل صاحب موجود تھے بابو محمد یوسف صاحب جو دفتر آب و ہوا میں سپرنٹنڈنٹ تھے وہ بھی موجود تھے بابو محمد حسین صاحب نے مولوی محمد حسین بٹالوی کو کہا کہ مولانا اب آپ نے حضرت اقدس کی صداقت کو دیکھ لیا ہے۔۔۔حضرت مرزا صاحب کی صداقت کو اب تو آپ مان لیں۔مولوی محمد حسین صاحب نے کہا کہ اگر حضرت مرزا صاحب زندہ ہوتے تو میں ان کی بیعت کر لیتا مگر وہ تو اب فوت ہو چکے ہیں۔بابو محمد یوسف صاحب نے کہا کہ مولانا حضرت مولوی نورالدین صاحب ان کے خلیفہ جو موجود ہیں آپ اب اُن کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔مولوی محمد حسین صاحب نے کہا کہ نورالدین تو مجھے سے زیادہ نہیں جانتا وہ تو میرے برابر بھی نہیں۔میں اس کی بیعت نہیں کر سکتا ہاں اگر مرزا صاحب زندہ ہوتے تو میں ان کی بیعت کر لیتا۔“