حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 196 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 196

حیات احمد ۱۹۶ جلد پنجم حصہ اول ۱۸۹۸ء کے بقیہ واقعات حضرت اقدس کے خلاف جو مقدمہ مولوی محمد حسین بٹالوی اور میاں محمد بخش سب انسپکٹر بٹالہ پولیس کی سازش سے چلایا گیا تھا اس کے واقعات کا سلسلہ ۱۸۹۹ء تک چلا گیا اس لئے یکجائی طور پر بیان کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی تھی مقدمہ کے انجام اور حضرت اقدس کی کامیابی کی تائید ربانی کا ظہور جس جلالی شان سے ہوا وہ اوپر بیان ہو چکا اب پھر ۱۸۹۸ء کے واقعات کی طرف توجہ کرتا ہوں۔میں اس سلسلہ میں ضرورۃ الامام کی تصنیف کے تحت بیان کر آیا ہوں۔اس کتاب کی اشاعت کے بابرکت نتائج بجائے خود ایک عظیم الشان نشان ہیں۔حضرت چوہدری نصر اللہ خان کی بیعت یہ ایک واقعہ ہے کہ ضرورت امام کی اشاعت نے ایک ایسی ٹولی کو سلسلہ سے الگ کر دیا جو براہین احمدیہ کی اشاعت کے وقت سے زمرہ مخلصین میں شریک تھے لیکن اپنی بعض پنہانی معصیتوں کی وجہ سے نہ صرف الگ ہوئے بلکہ ایک نیا مخالفانہ محاذ انہوں نے سلسلہ حقہ کے خلاف قائم کیا اور یوں اس لئے ہوا تا کہ حق اور باطل میں امتیاز قائم ہو جائے اور الہی سلسلوں کے لئے ایسے ابتلاؤں کا آنا لازمی ہوتا ہے ضرورۃ الامام تو ان کی بھلائی کے لئے لکھی گئی تھی مگر انہوں نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا حضرت اقدس کو ان کے الگ ہونے کا ایک قلبی دکھ تھا اس لئے کہ مامورین من اللہ تو دنیا کی ہدایت چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کی تلافی میں ایک مخلص فی الدین کو سلسلہ میں داخل ہونے کی توفیق دی اور یہ ضرورت امام کا پہلا اور سدا بہار ثمرہ تھا یہ رجل عظیم حضرت چوہدری نصر اللہ خاں صاحب رضی اللہ عنہ سیالکوٹ کے ایک ممتاز وکیل اور ضلع سیالکوٹ کے ایک واجب الاحترام خاندان کے رکن تھے جو اپنی علمی اور عملی صلاحیتوں کے لحاظ سے مسلمانوں میں مُشَارٌ إِلَیہ تھے حضرت مخدومی مولا نا عبدالکریم رضی اللہ عنہ کو اُن سے محبت تھی اور دعائیں کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ انہیں حقانیت سے