حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 188 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 188

حیات احمد ۱۸۸ جلد پنجم حصہ اول لفظ نہیں جو اس منشاء کو ادا کر سکے۔رہائی کا لفظ اس منشاء کو ادا نہیں کرتا محض تسامح کے طور پر بول سکتے ہیں وجہ یہ کہ رہائی کے لفظ کا صرف اس قدر مفہوم ہے کہ کسی کو چھوڑا جائے خواہ چڑیوں کو پنجرہ میں سے چھوڑا جائے۔مگر واضعانِ قانون کا ہر گز یہ منشاء نہیں ہے کہ وہ ڈسچارج کے لفظ سے صرف چھوڑ نا مراد لیں اور اس کے ساتھ اور کوئی شرط نہ ہو بلکہ ان کے نزدیک ڈسچارج کے لفظ میں ضروری طور پر یہ شرط ہے کہ جس شخص کو ڈسچارج کیا جائے اس پر الزام ثابت نہ ہو یا اس الزام کا کافی ثبوت نہ ہو۔اور جبکہ ڈسچارج کے لفظ کے ساتھ مُقَنِین کے نزدیک ایک شرط بھی ہے جس کا ہمیشہ فیصلوں میں ذکر بھی ہوتا ہے تو کسی صورت میں اس کا رہائی ترجمہ نہیں ہوسکتا کیونکہ رہائی کا لفظ صرف چھوڑنے یا چھوڑے جانے کے معنوں پر اطلاق پاتا ہے اور کوئی زائد امر اس کے مفہوم میں نہیں۔پس واضح ہو کہ ڈسچارج کا ترجمہ مُقَسِنِین کے منشاء کے موافق فارسی میں ہو ہی نہیں سکتا بلکہ اس مفہوم کے ادا کرنے کے لئے صرف بری کا لفظ ہے جو عربی ہے۔“ تریاق القلوب صفحه ۷۹ تا ۸۲۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۰۹ تا ۳۱۷) تا۸۲ تا مندرجہ بالا بیان کے پڑھنے سے یہ حقیقت نمایاں ہو جاتی ہے کہ اس مقدمہ سے پیشتر اللہ تعالیٰ کے الہام کے موافق تمام واقعات من وعن پورے ہو گئے اور اس پیشگوئی کی عظمت کا اعتراف غیر مسلموں تک کو کرنا پڑا اور اس کے متعدد اجزاء پر بھی خود حضرت اقدس نے تفصیلی بحث کی ہے مزید تفصیل کے لئے تریاق القلوب کے نشان نمبر ۵۹ کو پڑھا جاوے۲۴ فروری ۱۸۹۹ء کو فیصلہ ہوا اور ۲۶ فروری ۱۸۹۹ء کو آپ نے اعلان شائع کیا۔