حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 187
حیات احمد IAZ جلد پنجم حصہ اول ایڈیٹر اشاعۃ السنہ نے اپنی قدیم عادت کے موافق یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ حکم میں بری کا لفظ نہیں بلکہ ڈسچارج کا لفظ ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس اعتراض کو اس نے ایک بڑا اعتراض سمجھا ہے اس لئے اُس نے پیسہ اخبار اور نیز اخبار عام میں اس کو شائع بھی کیا ہے اور اس کی غرض اس سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ تا عوام پر یہ ظاہر کرے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور اس طرح پر دھوکہ دے کر ہدایت سے ان کو محروم رکھے لیکن اس کی بد قسمتی سے یہ دھوکہ دہی اس کی عقلمندوں کے دلوں پر اثر نہیں کر سکتی بلکہ اس رسالہ کے شائع ہونے کے بعد یہ حرکت اس کی سخت ندامت کا موجب ہوگی۔یادر ہے کہ انگریزی زبان میں کسی کو جرم سے بری سمجھنے یا بری کرنے کے لئے دو لفظ ہیں ایک ڈسچارج دوسرے ایکٹٹ۔ڈسچارج اُس جگہ بولا جاتا ہے کہ جہاں حاکم مجوز کی نظر میں جرم کا ابتدا سے ہی کچھ ثبوت نہ ہو۔اور عدم ثبوت کی وجہ سے ملزم کو چھوڑا جائے اور ایکٹ اس جگہ بولا جاتا ہے جہاں اوّل جرم ثابت ہو جائے اور فرد قرار داد جرم لگائی جائے اور پھر مجرم اپنی صفائی کا ثبوت دے کر اس الزام سے رہائی پاوے۔ان دونوں لفظوں میں قانونی طور پر فرق یہ ہے کہ ڈسچارج وہ بریت کی قسم ہے کہ جہاں جرم ثابت نہ ہو سکے اور ایکٹٹ وہ بریت کی قسم ہے جہاں جرم ثابت ہو جانے کے بعد اور فرد قرارداد لکھنے کے بعد آخر میں صفائی ثابت ہو جائے اور عربی میں بریت کا لفظ ان دونوں مفہوموں پر مشتمل ہے جو شخص تہمت سے دور ر ہے یعنی الزام کا لگنا اس پر ثابت نہ ہو یا الزام لگنے کے بعد اس کی صفائی ثابت ہو، دونوں حالتوں میں عربی زبان میں اُس کا نام بری ہوتا ہے۔پس جب ڈسچارج کے لفظ کا ترجمہ عربی میں کیا جائے گا تو بجز بری کے اور کوئی لفظ نہیں جو اس کے ترجمہ میں لکھ سکیں کیونکہ ڈسچارج کے لفظ سے قانون کا منشاء صرف اس قدر نہیں ہے کہ یونہی چھوڑ ا جائے بلکہ یہ منشاء ہے کہ عدم ثبوت کی حالت میں چھوڑا جائے اور اس منشاء کے ادا کرنے کے لئے صرف بری کا لفظ ہے اور یہ عربی لفظ ہے اور فارسی میں ایسا کوئی