حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 189
حیات احمد ۱۸۹ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ اپنے مریدوں کی اطلاع کے لئے جلد پنجم حصہ اول جو پنجاب اور ہندوستان اور دوسرے ممالک میں رہتے ہیں اور دوسروں کے لئے اعلان جو کہ ایک مقدمہ زیر دفعہ ۲۰۷ ضابطہ فوجداری مجھ پر اور مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ پر عدالت جے ایم ڈوئی صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپورہ میں دائر تھا۔بتاریخ ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء بروز جمعہ اس طرح پر اس کا فیصلہ ہوا کہ فریقین سے اس مضمون کے نوٹسوں پر دستخط کرائے گئے کہ آئندہ کوئی فریق اپنے کسی مخالف کی نسبت موت وغیرہ دل آزار مضمون کی پیشگوئی نہ کرے۔کوئی کسی کو کافر اور دجال اور مفتری اور کذاب نہ کہے۔کوئی کسی کو مباہلہ کے لئے نہ بلاوے۔اور قادیان کو چھوٹے کاف سے نہ لکھا جائے۔اور نہ بٹالہ کو طا کے ساتھ اور ایک دوسرے( کے ) مقابل پر نرم الفاظ استعمال کریں۔بدگوئی اور گالیوں سے مجتنب رہیں۔اور ہر ایک فریق حتی الامکان اپنے دوستوں اور مریدوں کو بھی اس ہدایت کا پابند کرے اور یہ طریق نہ صرف باہم مسلمانوں میں بلکہ عیسائیوں سے بھی یہی چاہیے۔لہذا میں نہایت تاکید سے اپنے ہر ایک مرید کو مطلع کرتا ہوں کہ وہ ہدایت مذکورہ بالا کے پابند ر ہیں اور نہ مولوی محمد حسین اور نہ اس کے گروہ اہل حدیث اور نہ کسی اور سے اس ہدایت کے مخالف معاملہ کریں۔بہتر تو یہی ہے کہ ان لوگوں سے بکلی قطع کلام اور ترک ملاقات رکھیں۔ہاں جس میں رُشد اور سعادت دیکھیں اس کو معقول اور نرم الفاظ سے راہ راست سمجھا ئیں اور جس میں تیزی اور لڑنے کا مادہ دیکھیں اس سے کنارہ کریں۔کسی کے دل کو ان الفاظ سے دکھ نہ دیں کہ یہ کافر ہے یا دجال ہے یا کذاب ہے یا مفتری ہے گو وہ مولوی محمدحسین ہو یا اس گروہ میں سے یا اس