حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 165
حیات احمد ۱۶۵ جلد پنجم حصہ اول مطابق اس کی ذلت ہوئی اور جس اعتقاد کی وجہ سے قوم کی نظر میں مجھے اس نے کافر ٹھہرایا اور میرا نام دجال اور ملحد اور مفتری رکھا اب وہی القاب قوم کی طرف سے اس کو بھی ملے اور بالکل الہام کے منشاء کے موافق پیشگوئی اشتہا ر۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء پوری ہوگئی کیوں کہ جیسا کہ میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں پیشگوئی میں ذلت کے لفظ کے ساتھ مثل کی شرط تھی سواس شرط کے موافق الہام پورا ہو گیا اور اب کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں رہی میں حکام انصاف پسند سے چاہتا ہوں اور ذرا ٹھہر کر اور سوچ کر اس مقام کو پڑھیں یہی وہ مقام ہے جس پر غور کرنا انصاف چاہتا ہے۔اصل جواب اسی قدر ہے جو میں نے عرض کر دیا لیکن اس وقت یہ بھی ضروری ہے کہ دوسرے حملوں کا دفعیہ بھی جو الزام کو قوت دینے کے لئے پیش کئے گئے ہیں گزارش کر دوں۔منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ عدالت میں میری نسبت یہ الزام پیش کیا گیا ہے که گویا میری قدیم سے یہ عادت ہے کہ خود بخود کسی کی موت یا ذلت کی پیشگوئی کیا کرتا ہوں۔اور پھر اپنی جماعت کے ذریعہ سے پوشیدہ طور پر اس کوشش میں لگا رہتا ہوں کہ کسی طرح وہ پیشگوئی پوری ہو جائے۔گویا میں ایک قسم کا ڈاکو یا خونی یار ہرن ہوں اور گویا میری جماعت بھی اس قسم کے اوباش اور خطر ناک لوگ ہیں جن کا پیشہ اس قسم کے جرائم ہیں لیکن میں عدالت پر ظاہر کرتا ہوں کہ یہ الزام سراسر افترا سے خمیر کیا گیا ہے اور نہایت بُری طرح میری اور میری معزز جماعت کی ازالہ حیثیت عرفی کی گئی ہے۔میں اس وقت اس کو زیادہ بیان کرنا غیر حل سمجھتا ہوں لیکن عدالت پر واضح کرتا ہوں کہ میں ایک شریف اور معزز خاندان میں سے ہوں۔میرے باپ دادے ڈاکو اور خونریز نہ تھے اور نہ کبھی کسی عدالت میں میرے پر کوئی جرم ثابت ہوا۔اگر ایسے بد اور ناپاک ارادہ سے جو میری نسبت بیان کیا گیا ہے ایسی پیشگوئیاں کرنا میرا پیشہ ہوتا تو اس میں برس کے عرصہ میں جو براہین احمدیہ کی تالیف سے شروع ہوا ہے کم سے کم دو تین سو پیشگوئی موت