حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 166 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 166

حیات احمد ۱۶۶ جلد پنجم حصہ اوّل وغیرہ کی میری طرف سے شائع ہوتی حالانکہ اس مدت دراز میں بجز ان دو تین پیشگوئیوں کے ایسی پیشگوئی اور کوئی نہیں کی گئی۔میں عرض کر چکا ہوں کہ یہ پیشگوئیاں لیکھر ام اور عبداللہ انتقم کے بارے میں میں نے اپنی پیشدستی سے نہیں کیں بلکہ ان دونوں صاحبوں کے سخت اصرار کے بعد ان کی ستخطی تحریر میں لینے کی بعد کی گئیں اور لیکھرام نے میری اشاعت سے پہلے خودان پیشگوئیوں کو شائع کیا تھا اور میں نے بعد میں شائع کیا۔چنانچہ لیکھرام کی اپنی کتاب تکذیب صفحہ ۳۳۲ میں اس بات کا اقرار ہے کہ وہ پیشگوئیوں کے لئے دو ماہ تک قادیان میں ٹھہرا رہا اور اس نے خود پیشگوئی کے لئے اجازت دی اور اپنی دستخطی تحریر دی وہ اُس صفحہ میں میری نسبت یہ بھی لکھتا ہے کہ وہ موت کی پیشگوئی کو ظاہر کرنا نہیں چاہتے تھے جب تک اجازت نہ ہو۔اور پھر اسی صفحہ میں اپنی طرف سے اجازت کا اعلان کرتا ہے۔اس کی کتاب موجود ہے۔یہ مقام پڑھا جائے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نے میری اشاعت سے پہلے میری پیشگوئی کی آپ اشاعت کر دی ہے اور ڈپٹی عبد اللہ آتھم کی ایک تحریر مثل مقدمہ ڈاکٹر کلارک کے ساتھ شامل ہے اور لیکھرام کی خط و کتابت جو مجھ سے ہوئی اور جس اصرار سے اپنے لئے اُس نے پیشگوئی طلب کی وہ رسالہ مدت سے چھپ چکا ہے اور قادیان کے ہندو بھی قریب دوسو کے اس بات کے گواہ ہیں کہ لیکھرام قریباً دو ماہ تک پیشگوئی کے تقاضا کے لئے پشاور سے آکر قادیان میں رہا۔میں کبھی اس کے بعد پشاور نہیں گیا اُس کے سخت اصرار اور بد زبانی کے بعد اور اس کی تحریر لینے کے بعد اس کے حق میں پیشگوئی کی تھی اور یہ دونوں پیشگوئیاں چونکہ خدا تعالیٰ کے طرف سے تھیں اس لئے پوری بھی ہو گئیں۔اور مجھے اس سے خوشی نہیں بلکہ رنج ہے کہ کیوں ان دونوں صاحبوں نے اس قدر اصرار کے ساتھ پیشگوئی حاصل کی جس کا نتیجہ ان دونوں کی موت تھی مگر میں اس الزام سے بالکل الگ اور جدا ہوں کہ کیوں پیشگوئی کی گئی لیکھرام نے