حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 164
حیات احمد ۱۶۴ جلد پنجم حصہ اول کی ذلّت پر صادق آسکتا ہے تو پھر بلا شبہ قانونی الزام کے نیچے ہوں لیکن اگر الہام میں مثلی ذلت کی شرط ہے تو پھر اس الہامی فقرہ کو قانون سے کچھ تعلق نہیں بلکہ اس صورت میں یہ بات تنقیح طلب ہوئی کہ فریق مظلوم کو کس قسم کی ذلت ظالم سے پہنچی ہے اور فریق مخالف ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرے گا کہ اس نے کبھی مجھ کو ایسی ذلت پہنچائی ہے جو فوجداری قانون کے نیچے آسکتی ہے۔مگر مثلی ذلّت کے لئے جو الہام نے قرار دی ہے یہی شرط ہے کہ ظالم کی اسی قسم کی ذلت ہو جو بذریعہ اس کے مظلوم کو پہنچی ہو۔اگر یہ پیشگوئی ایسے طور سے پوری ہوتی جو وہ طور مشکلی ذلت کے برخلاف ہوتا تو ہر ایک کو کہنا پڑتا کہ یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔کیونکہ ضرور ہے کہ پیشگوئی اپنے اصل معنے کے رو سے پوری ہو چنانچہ یہ پیشگوئی اپنے اصل معنے کے رو سے پوری بھی ہوگئی۔کیونکہ محمدحسین نے مع اپنے گروہ کے جو فتویٰ کفر کا میری نسبت دیا تھا اور میرا نام دجال ، کذاب اور مفتری رکھا تھا ایسا ہی اس کی نسبت اس کے ہم مشرب علماء نے فتویٰ دے دیا۔یعنی اس کی اس فہرست انگریزی کے نکلنے کے بعد جس میں اس نے مہدی کے آنے کی احادیث کو غلط اور نا درست لکھا ہے اس کی نسبت اسی کی قوم کے مولویوں نے صاف طور پر لکھ دیا کہ وہ کافر اور کذاب اور دجال ہے۔سو وہ فقرہ الہامی جس میں لکھا تھا کہ ظالم کو ذلت اسی قسم کی پہنچے گی جو اس نے مظلوم کو پہنچائی ہو وہ بعینم پورا ہو گیا کیوں کہ محمد حسین اپنی منافقانہ طبیعت کی وجہ سے جس کا وہ قدیم سے عادی ہے گورنمنٹ کو یہ دھوکا دیتا رہا کہ وہ اس خطرناک خونی مہدی کا منکر ہے جس کے آنے کے لئے وحشیانہ حالت کے مسلمان منتظر ہیں۔مگر تمام مولویوں کو یہ کہتا رہا کہ میں اس مہدی کا قائل ہوں اور یہ اس کا طریق نہایت قابل شرم تھا جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اس کو ذلیل کیا۔اگر وہ دل کی سچائی سے ایسے خطر ناک مہدی کے آنے کا منکر ہوتا تو میری نظر میں اور ہر ایک منصف کی نظر میں قابل تعریف ٹھہرتا لیکن اس نے ایسا نہ کیا اور نفاق سے کام لیا۔اس لئے الہام کے