حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 162
حیات احمد ۱۶۲ جلد پنجم حصہ اول حضرت اقدس کا ڈیفنس میں نے پہلے استغاثہ کے گواہوں کے بیانات درج کر دیئے ہیں اور خود حضرت اقدس کا بیان بھی جو عدالت کے استفسار پر دیا گیا تھا درج کر دیا ہے اس سرسری بیان کے علاوہ حضرت اقدس نے ایک تحریری بیان بطور ڈیفنس بھی شامل مثل کرایا یہ بیان خود حضرت نے آپ قلم برداشتہ لکھا اور انگریزی میں ترجمہ کر کے شامل مثل کر دیا گیا۔اصل مسودہ حضرت کا قلمی میرے کاغذات میں تھا جو افسوس ہے اب اس کے متعلق میں نہیں کہہ سکتا کہ کہاں ہے؟ یہ ایک عجیب بات ہے اور میں اسے اپنے لئے باعث سعادت اور ذریعہ نجات سمجھتا ہوں کہ مقدمات کے سلسلہ میں جو حضرت اقدس کے خلاف ہوئے اس خطا کار کو کسی نہ کسی حیثیت سے حضرت کی محبت نصیب ہوئی۔اس مقدمہ میں فریق ثانی نے اخبار الحکم کے بعض مضامین کو بھی پیش کیا اس لئے حضرت اقدس نے اپنے تحریری بیان میں اس کا بھی ذکر فرمایا۔میں اس ڈیفنس کو تمام و کمال یہاں درج کرتا ہوں تا کہ قارئین کرام اور زمانہ آئندہ کے مؤرخ کو مقدمہ کے سارے پہلوؤں پر غور کرنے میں سہولت ہو۔میں عدالت میں اپنی بریت ثابت کرنے کے لئے بطور ڈیفنس یہ عریضہ لکھتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ اگر تمام واقعات کو یکجائی نظر سے دیکھا جائے تو اس الزام سے جو مجھ پر لگایا جاتا ہے میرابر کی ہونا صاف طور پر کھل جائے گا۔میں سب سے اول اس بات کو پیش کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنے اشتہار ۲۱ / نومبر ۱۸۹۸ء میں کوئی ایسی پیشگوئی نہیں کی جس سے محمد حسین یا اس کے کسی اور شریک کی جان یا مال یا عزت کو خطرہ میں ڈالا ہو یا خطرہ میں ڈالنے کا ارادہ کیا ہو۔میرا اشتہار مباہلہ مورخہ ۲۱ / نومبر ۱۸۹۸ء فریق مخالف کی کئی چھپی ہوئی درخواست مباہلہ اور کئی قلمی خطوط طبی مباہلہ کے بعد لکھا گیا اور ایسا ہی دوسرا اشتہار جو ۳۰ رنومبر ۱۸۹۸ء کو شائع ہوا،