حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 163 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 163

حیات احمد ۱۶۳ جلد پنجم حصہ اول یہ دونوں اشتہار صاف طور پر بتلا رہے ہیں کہ اس پیشگوئی میں یعنی جو عربی الہام مندرجہ اشتہارا۲ نومبر ۱۸۹۸ء میں ذلت کا لفظ ہے اس سے فریق کا ذب کی ذلت مراد ہے اور ذلت بھی اس قسم کی ذلت جو فریق کا ذب نے دوسرے فریق کو بذریعہ اپنے کسی فعل کے پہنچائی ہو۔یہ اس الہامی فقرہ کی تشریح ہے جو اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء میں درج ہے یعنی یہ فقرہ کہ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ جس کے لفظی معنے یہی ہیں کہ بدی کی سزا ذلت ہے مگر اسی ذلت کی مانند اور مشابہ جو فریق ظالم نے فریق مظلوم کو پہنچائی ہو۔اب اگر اس الہامی فقرہ کو جو مہم کے ارادہ اور نیت کا ایک آئینہ ہے ایک ذرہ تدبر اور فکر سے سوچا جائے تو بدیہی طور پر معلوم ہوگا کہ اس فقرہ کے اس سے بڑھ کر اور کوئی معنی نہیں کہ ظالم کو اسی قسم کی ذلت پہنچنے والی ہے جو فی الواقعہ مظلوم کو اس کے ہاتھ سے پہنچ چکی ہے۔یہ معنے امر بحث طلب کو بالکل صاف کر دیتے ہیں اور ثابت کر دیتے ہیں کہ اس پیشگوئی کو کسی مجرمانہ ارادہ سے کچھ بھی لگاؤ نہیں اور یہ معنے صرف اسی وقت نہیں کئے گئے بلکہ اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء اور ۳۰ / نومبر ۱۸۹۸ ء اور دوسرے اشتہارات میں جو پیش از اطلاع یابی مقدمہ شائع ہو چکے ہیں ان سب میں کامل طور پر یہی معنے کئے گئے ہیں۔عدالت کا فرض ہے کہ ان سب اشتہارات کو غور سے دیکھے کیونکہ میرے پر وہی الزام آسکتا ہے جو میرے کلام سے ثابت ہوتا ہے پھر جبکہ میں نے الہامی عبارت کے معنوں کی قبل از وقت اطلاع یابی اپنے اشتہارات میں بخوبی تشریح کر دی ہے۔بلکہ ۳۰ نومبر ۱۸۹۸ء کے اشتہار میں ذلت کی ایک مثال بھی لکھ دی ہے اور بار بار تشریح کر دی ہے تو پھر یہ الہام قانونی زد کے نیچے کیوں کر آ سکتا ہے۔ہر ایک مظلوم کا حق ہے کہ وہ ظالم کو یہ بد دعا دے کہ جیسا تو نے میرے ساتھ کیا خدا تیرے ساتھ بھی وہی کرے اصول انصاف عدالت پر یہ فرض کرتا ہے کہ عدالت اس عربی الہام کے معنے غور سے دیکھے جس پر تمام مقدمہ کا مدار ہے۔اگر میرے عربی الہام میں ایسا لفظ ہے جو ہر ایک قسم