حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 161
حیات احمد ۱۶۱ جلد پنجم حصہ اول تار آیا ہے چونکہ تین منٹ کے لئے ہم نے وہاں اترنا تھا اس لئے ہم اطلاع سن کر فوراً اتر پڑے اور تار لے کر پڑھا تو معلوم ہوا کہ سوداگر صاحب نے تار دیا ہے کہ آپ کا تمام مال مل گیا ہے۔دوسری گاڑی سے ایک آدمی کے ہاتھ بھیج رہا ہوں۔یہ معلوم کر کے منشی صاحب بھی خوش ہوئے اور مجھے کہا کہ ” کیوں جیسے ہم نے کہا تھا ویسا ہی ہوانا اب فرمائیے تسلی ہوئی یا نہیں ؟‘ اس کے بعد میں نے سفر کا حساب پیش کیا اس پر منشی صاحب نے فرمایا کہ قادیان کا سفر کیا تو میں نے کبھی حساب رکھا اور وہی روپیہ واپس لایا۔اور کپورتھلہ پہنچتے ہی سو روپے کا منی آرڈر حضرت اقدس کے نام لکھا اور مجھے دیا اور میں نے ڈاکخانہ جا کر حضرت اقدس کی خدمت میں ارسال کر دیا۔مکرمی شیخ صاحب !انشی اروڑے خاں صاحب اور منشی محمد خاں صاحب کے تمام حالات مجھے یاد ہیں اور وہ سب کے سب ایسے ہیں کہ ان کا محفوظ رکھنا آئندہ نسلوں کے لئے بہت مفید ہے لہذا اگر آپ ارشاد فرما ئیں تو میں رفتہ رفتہ لکھوا کر آپ کی خدمت میں بھیجتار ہوں گا۔خاکسار سید عزیز الرحمن بریلوی مهاجر قادیان مقدمہ پیش ہوا آخر مقدمہ پیش ہوا۔مولوی محمد حسین صاحب آج نیا وکیل لائے تھے اس نے قانونی عذر کیا کہ چونکہ مقدمات دو ہیں ایک مرزا صاحب کے خلاف دوسرا مولوی محمد حسین کے خلاف اور وقت واحد میں ان کی سماعت نہیں ہو سکتی۔صاحب ڈپٹی کمشنر نے مقدمہ ۱۴ فروری ۱۸۹۹ء پر اس ہدایت کے ساتھ ملتوی کیا کہ اوّل مرزا صاحب کے خلاف مقدمہ کی سماعت ہوگی اور آئندہ مقدمہ پٹھانکوٹ پیش ہوگا۔قارئین کرام یہ تاریخوں اور مقام سماعت کی تبدیلی دراصل ایک ذریعہ تبلیغ ہو گیا۔لوگ ہر تاریخ پر بکثرت جمع ہو جاتے اور مختلف طریقوں سے استفادہ کرتے اور حضرت اقدس کے دعوئی پر غور کرنے کا موقعہ ملتا اور اس طرح حکام پر بھی اتمام حجت ہوتا۔