حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 160
حیات احمد ۱۶۰ جلد پنجم حصہ اول ہو جائیں تا کہ ہم سب زیارت سے مشرف ہوں اس کے بعد آپ نہر کے پل پر کھڑے ہو گئے رومال آپ نے اپنے لبوں پر لے لیا چند منٹ تک لوگ زیارت کرتے رہے وہیں نہر کے کنارے حضرت خلیفہ اول نے خطبہ جمعہ پڑھا اور پھر نماز جمعہ پڑھائی ، نماز کے بعد اس قدر مخلوق تھی کہ باوجود یکہ صفوں کو درست کرنے کی ہر چند کوشش کی گئی لیکن کثرت مخلوق کے باعث صفیں درست نہ ہوسکیں اس وقت ایک حیرت انگیز نظارہ آنکھوں نے یہ دیکھا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے لوگوں کو ہر طرح سے روکا کہ مرزا صاحب کے ساتھ نماز نہ پڑھو مگر وہ اپنی کوشش میں بُری طرح ناکام رہا آخر کار مجبور ہو کر ایک درخت کے نیچے کوئی بارہ آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھی نماز کے بعد مقدمہ وغیرہ کے سب کام ہو گئے اس کے بعد ہم واپس ہوئے اور بٹالہ ہو کر امرت سر پہنچے میرے پاس اس وقت منشی صاحب کا کوئی یکصد روپیہ موجود تھا کیونکہ سفر میں تمام دوستوں کا میں ہی خزانچی ہوتا تھا اس وقت میرے پاس ایک سنہری سرکاری گھڑی بھی تھی اور اسے میں نے اسی رومال کے کونے میں باندھا ہوا تھا۔جس میں تمام دوستوں کے روپے بند تھے جب ہم نے امرت سر آ کر بٹالہ والی گاڑی کو چھوڑا اور جالندھر والی گاڑی پر سوار ہوئے تو وہ نقدی والا رو مال بٹالہ والی گاڑی میں بھول کر چھوڑ آیا۔ریل کی گھبراہٹ میں خیال نہ رہا۔اس کے بعد لاہور سے ایک گھوڑوں کا سوار آیا چونکہ منشی صاحب سرکار کپورتھلہ کے لئے گھوڑے خریدا کرتے تھے اس لئے وہ اس سلسلہ میں سوداگر سے باتیں کرتے رہے گاڑی چلنے میں کوئی ایک دومنٹ رہ گئے تو مجھے اپنی گھڑی یاد آگئی اور میں نے اپنے ہمراہیوں سے تمام ماجرا بیان کیا اس پر منشی محمد خاں صاحب نے اس سوداگر سے کہا کہ آپ مہربانی کر کے ہمارے مال کا پتہ کریں اس نے ڈبہ کا نمبر پوچھا مگر ہم میں سے کسی کو بھی معلوم نہ تھا اس لئے ہم نمبر نہ بتا سکے اس پر گاڑی چل پڑی اس پر مجھے سخت قلق ہوا اور گھڑی کا خیال کر کے اور بھی صدمہ ہوا کیونکہ میں کپورتھلہ سے بلا اجازت آیا تھا میرے ساتھیوں نے مجھے بہت تسلی دی اور ہر چند کہا کہ ہم نے اس قسم کے سفر میں کبھی کوئی نقصان نہیں دیکھا لہذا آپ کوئی غم نہ کریں لیکن مجھے تسکین نہ ہوئی میرے اس عالم اضطراب میں گاڑی جب کرتار پور پہنچی تو تار کے چپڑاسی نے اطلاع دی کہ منشی محمد خاں کے نام