حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 159 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 159

حیات احمد ۱۵۹ جلد پنجم حصہ اول اس لئے شور ہر گز نہ کرو۔جس وقت ہم بٹالہ پہنچ کر ریل سے اترے تو معلوم ہوا کہ خواجہ کمال الدین مرحوم اور شیخ رحمت اللہ مرحوم بھی قادیان جانے کے لئے ہمارے ساتھ گاڑی سے اترے ہیں ہمیں دیکھ کر انہوں نے ساتھ لایا ہوا ناشتہ نکالا منشی صاحب مرحوم نے مجھے چپکے سے کہا کہ تم ان سے الگ ہو کر ادھر سے ساتھ آجاؤ میری طبیعت ان سے کراہت کرتی ہے چنانچہ ہم دونوں الگ ہو کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے اس کے بعد پھر ریل پر سوار ہوئے اور ہم بجائے قادیان کے دھار یوال پہنچے وہاں پہنچ کر ہم سب نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام بہت سے خدام کے ساتھ مولوی محمد حسین والے مقدمے کے متعلق پیشی میں دھار یوال تشریف لائے ہوئے تھے قادیان سے آنے والے دوستوں کے علاوہ اردگرد کے دیہات وغیرہ سے اس قدر مخلوق حضور کے اشتیاق میں جمع تھی کہ گھوے سے گھڑا چھلتا تھا۔دھار یوال کے تمام کارخانے بند تھے ان میں کام کرنے والے سب وہیں جمع تھے۔معلوم ہوا کہ دس دس پندرہ پندرہ کوس سے لوگ حضرت صاحب کو دیکھنے آئے ہوئے ہیں۔مجھے یاد آگیا کہ ہمارے ساتھ تیسرے دوست محمد خان صاحب بھی تھے اور تینوں کپورتھلہ سے چلے تھے۔خیر ہم تینوں آگے بڑھ کر حضرت اقدس کی ملاقات سے مشرف ہوئے۔حضور علیہ السلام نے اپنا بست نشی اروڑے خاں صاحب کے سپر د کیا اور فرمایا کہ اسے سنبھالے رکھیں چونکہ خلقت کا بہت اثر دھام تھا اس لئے منشی صاحب نے دوزانو بیٹھ کر بستہ کو اپنی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں دبالیا اسی صورت میں بہت عرصے تک بیٹھے رہے آخر ہم کھڑے کھڑے تھک گئے اس پر میں نے منشی صاحب سے کہا کہ آپ بستہ بغل میں لے کر اٹھیں تا ادھر اُدھر پھر لیں۔اس پر انہوں نے کہا کہ یہ ناممکن ہے۔ہاں میرے ساتھ آپ بیٹھ جائیں۔میں بھی اُن کے پاس بیٹھ گیا اس کے بعد خلقت اس قدر ٹوٹ پڑی کہ یور چین اور غیر یورپین زائرین کی کثرت کئی ہزار تک ہوگئی ایک دوست نے نہایت خوشنما ریشمی پڑکا حضرت اقدس کو کمر میں باندھنے کے لئے دیا آپ نے اسے پکڑ کر رشتی کی طرح بٹ لیا اور کمر کے ساتھ لپیٹ لیا۔اس کے بعد سب لوگوں نے یہ درخواست کی کہ حضور کسی اونچی جگہ پر جلوہ افروز