حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 158 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 158

حیات احمد ۱۵۸ جلد پنجم حصہ اوّل ایک قسم کی تعطیل ہوگئی نہ صرف کارخانہ کے کاریگر بلکہ انگریز اور ان کے بیوی بچے سب اس نہر کے کنارے پر آکر مشتاق زیارت کھڑے ہو گئے جہاں حضرت اقدس تشریف فرما تھے اور نماز جمعہ کا انتظام تھا اور ہزاروں آدمی جمع ہو گئے مولوی محمد حسین اپنے چند آدمیوں کے ساتھ موجود تھا۔اس کے ایجنٹ لوگوں کو حضرت کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکتے مگر کوئی نہ سنتا تھا آخر نماز جمعہ کی حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین نے امامت کی اور خطبہ میں قرآن کریم کے معارف ایسے مؤثر انداز میں بیان کئے کہ لوگوں پر ایک محویت طاری تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آسمان زمین کے قریب ہو رہا ہے اور فرشتوں کا نزول ہو رہا ہے۔یہ مجمع ہزاروں کا ہو گیا اور حضرت کی زیارت کے لئے دھار یوال کے کارخانہ کے انگریز اور ہندوستانی افسروں نے درخواست کی کہ ہم حضور کی زیارت کرنا چاہتے ہیں۔اس پر آپ ایک بلند مقام پر کھڑے ہو گئے اس وقت کا نقشہ کھینچنا میرے قلم کی طاقت میں نہیں مصوّر بھی مرقع تو پیش کر سکتا ہے مگر اس کیفیت کو جو حاضرین کے قلوب میں پیدا ہو چکی تھی ظاہر نہیں کر سکتا ایک نورانی تجلبی اپنی ضیا پاشیاں کر رہی تھی۔دیر تک یہ عالم رہا۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میں موقعہ کی مناسبت سے برادر مکرم میر عزیز الرحمن صاحب کا ایک خط یہاں درج کر دوں جو انہوں نے ۱۹۳۴ء میں الحکم میں اشاعت کے لئے لکھا تھا اس سے اس وقت کی جماعت کے اخلاص کا کس قدر نشان ملتا ہے۔”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ منشی اروڑے خاں صاحب مرحوم نے مجھ سے فرمایا کہ قادیان چلو گے میں نے کہا کہ ہاں چلوں گا ان کی عادت تھی کہ جب قادیان چلنے کے بارے میں ہاں کہہ دیتا تو خوشی کے مارے مجھ سے لپٹ جایا کرتے تھے اور جب میں جواب نفی میں دیتا تو سخت خفا ہو جاتے خیر میں ان کے ساتھ ہو لیا آخر ہم گاڑی پر سوار ہو کر بٹالہ پہنچے۔ایک بات اور یاد آگئی وہ یہ کہ جب منشی صاحب مرحوم کپورتھلہ سے قادیان کو چلتے تو مقدمات کی مسل کی پیشانی پر روانگی حج بیت اللہ لکھ دیا کرتے جب دوسرے دن پیشی میں پکار ہوتی تو ان کو غیر حاضر پا کر چپڑاسی ہر طرف ڈھونڈ تے مگر نہ ملتے۔آخر عدالت جب مسل پر ان کا لکھا ہوا پڑھتی تو چپڑاسیوں کو حکم ملتا کہ وہ قادیان تشریف لے گئے ہیں