حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 153
حیات احمد ۱۵۳ جلد پنجم حصہ اول افسر پولیس کی مندرجہ ذیل گفتگو ہوئی جبکہ ہمارے ایک دوست نے ان سے ہم کو انٹر ڈیوس کرایا۔افسر پولیس) ایڈیٹر صاحب ! اصل بات کیا ہے؟ (ایڈیٹرالحکم یعنی ہم ) جناب بندہ! اصل یوں ہے کہ یہ تو ایک استمراری عادت ہے کہ جب کبھی کوئی مامور من اللہ یا بھلا آدمی دنیا میں آکر اہلِ زمین کی اخلاقی کمزوریوں اور روحانی بیماریوں کا علاج کرنا چاہتا ہے تو کوئی نہ کوئی انسان بالمقابل اٹھ کر اُس پر نکتہ چینی کرتا اور اس کی مخالفت کا شور مچاتا ہے اور اس کی ہزار ہا ہزار نظیریں دنیا میں موجود ہیں۔ظلمت اور نور کا مقابلہ ہم رات دن دیکھتے ہیں چنانچہ مرزا صاحب نے بھی جب دنیا کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا تو ایسی طبیعتیں جو مخالفت حق کا مادہ رکھتی تھیں مخالفت کے لئے جوش میں آئیں اور اپنی ممکنہ طاقتوں سے انہوں نے کوشش کی کہ مرزا صاحب کو نیچا دکھا ئیں مگر خدا جس کے ساتھ ہو وہ ذلیل نہیں ہوسکتا غرض مرزا صاحب کو ہر میدان میں کامیابی ہوتی رہی چونکہ آپ نے صرف اس مقدمہ کے متعلق استفسار فرمایا ہے۔میں اس لمبے سلسلے میں پڑنا نہیں چاہتا اول ہی اوّل جو لوگ مرزا صاحب کے مخالف تھے محمد حسین نے جو اس وقت ایک فریق مقدمہ ہے مرزا صاحب کی تصدیق کی اور اپنے رسالہ جات میں اپنی ذاتی واقفیت اور علم کی بناء پر مرزا صاحب کو اپنے دعاوی میں راستباز اور خیر خواہ اسلام ثابت کیا اور مخالف مولویوں کے حملوں اور اعتراضوں کا مبسوط جواب دیا یہاں تک کہ گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں بھی ظاہر کیا کہ یہ شخص یعنی مرزا صاحب اور ان کا خاندان ہمیشہ سے ارادت مند اور فرمان پذیر ہے بلکہ وہ سندات اور خوشنودی مزاج کے پروانے بھی اپنے رسالہ میں شائع کئے جو حضرت مرزا صاحب کے بزرگوں کو اس امداد کی وجہ سے جو انہوں نے عین بے تمیزی یعنی غدر ۱۸۵۷ء کے دوران میں دی تھی ملے تھے۔الغرض ایک عرصہ تک وہ ان کا مصدق اور موئید رہا پھر بغرض نفسانی خواہشوں کی وجہ سے اس نے مخالفت کی اور آج تک مخالفت کر رہا ہے۔مرزا صاحب چونکہ شروع سے ایک گوشہ نشین اور خلوت گزیں آدمی ہیں انہوں نے ان باتوں پر جو مخالفوں کی طرف سے ہوتی رہیں ہمیشہ صبر کیا ہے۔اس شخص نے جب مخالفت میں کامیابی نہ دیکھی اور دلائل و براہین سے غالب نہ آسکا تو پھر اپنی تحریروں میں ایسے الفاظ استعمال کئے جو مرزا صاحب