حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 152
حیات احمد ۱۵۲ جلد پنجم حصہ اول ۵/جنوری ۱۸۹۹ء آج گورداسپور میں نماز فجر جماعت کے ساتھ پڑھی گئی احباب بچے اخلاص اور محبت کے جوش میں لودھیانہ، کپورتھلہ، امرتسر ، لاہور، شملہ ، جموں ، بدوملہی وغیرہ مقامات کے جمع ہو گئے تھے اور جماعت میں سو کے قریب آدمی جمع تھے۔دس بجے حضرت اقدس مع احباب کچہری ضلع کے طرف تشریف لے گئے لوگوں کا اثر دھام اور انبوہ اس کے مرجع خلائق ہونے کا ثبوت دے رہا تھا۔بارہ بجے تک حضور و ہیں تشریف فرمار ہے۔۱۲ بجے کے ساتھ ہی صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور نے اطلاع دی کہ مقدمہ ارجنوری ۱۸۹۹ء پر ملتوی ہو گیا ہے۔حضرت اقدس نے مع احباب اُسی میدانِ عدالت میں کھانا تناول فرمایا اور پھر خلصین کی کثیر تعداد کے ہمراہ فرودگاہ پر تشریف لائے اور نماز ظہر وعصر ادا کی۔زاں بعد بندگانِ عالی مع چند احباب بسواری یکه براہِ راست دارالامان کو روانہ ہوئے اور باقی خدام حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب سلمہ اللہ کے ہمراہ بسواری ریل براہ بٹالہ دارالا مان کو چلے۔گورداسپور ریلوے سٹیشن کا نظارہ دو بجتے بجتے ریلوے سٹیشن گورداسپور پر حضرت اقدس کے خدام کی ایک کثیر تعداد بغرض روانگی جمع ہوگئی محمد حسین بطالوی بھی چند آدمیوں کے ہمراہ پلیٹ فارم پر آپہنچے اور یہ بتلانے کے لئے کہ آپ ایک بڑے انفلو ئنشل (Influential) آدمی ہیں۔ویٹنگ روم میں جا گھسے کبھی باہر آگئے۔غرض ادھر اُدھر پھرتے رہے تھوڑی دیر کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب سلمہ اللہ بھی تشریف لے آئے۔سٹیشن پر بعض عمائد اور مقامی حکام بھی کسی تقریب سے موجود تھے مولوی نورالدین صاحب نے ان کے سامنے ایک مختصر سی تقریر کی جو حضرت اقدس کی صداقت پر مشتمل تھی۔اس کو تجربہ شدہ اور مشاہدے میں آئے ہوئے حیرت انگیز دلائل سے مدلل کیا خود ہم سے ایک معزز