حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 149
حیات احمد ۱۴۹ جلد پنجم حصہ اول مریدوں کو اشتعال دیں گے ( جرح مسٹر اور ٹل بیرسٹر پر کہا) محمد حسین کی نسبت کبھی شبہ نہیں ہوا کہ اس نے یا اس کے پیروی کنندوں نے اشتعال قتل دیا ہے۔مجھ کو اس ضلع میں آئے ہوئے تین مہینے ہوئے ہیں۔مجھ کو محمد حسین کی نسبت کچھ حال معلوم نہیں ہے مگر اس قدر معلوم ہے کہ اس کے دوست اور مرید ہیں جو کچھ وہ کہے کریں گے۔میں یہ نہیں کہتا کہ اس کے مرید ہیں، مرزا کے بھی مرید ہیں ( جرح مسٹر براؤن پر کہا ) لاہور میں یہ افواہ تھی کہ پیشگوئی کے پورا کرنے کے لئے مرزا نے ایسا قتل کیا ہے مجھ کو کسی خاص کتاب کی بابت معلوم نہیں لیکن اس قدر معلوم ہے کہ پنڈت لیکھر ام اپنے مخالفوں کی نسبت کتابیں شائع کرتا تھا۔میں ذاتی طور پر محمد بخش جعفر زٹلی کا واقف نہیں ہوں لیکن اتنا سنا ہے کہ وہ ناخواندہ ہے مولوی محمد حسین کا دوست ہے۔لیکھرام کے متعلق شمس الدین اور تاج الدین کے گھروں کی تلاشیاں ہوئیں نیز ایک انجمن کے مکان کی بھی تلاشی ہوئی تھی۔وہ انجمن مرزا کے مخالف تھی۔دستخط انسپکٹر پولیس۔دستخط حاکم بیان گواہ ہمارے مواجہہ اور سماعت میں تحریر ہو کر سنایا اورسن کر درست تسلیم کیا۔دستخط حاکم ایک ضمنی ذریعہ خانہ تلاشی کے لئے مخبری مقدمات کا یہ سلسلہ ابھی عملاً شروع نہ ہوا تھا مگر اس کے لئے مواد مہیا کیا جا رہا تھا میاں محمد بخش سب انسپکٹر بٹالہ اور مولوی محمد حسین کی سازشوں اور منصوبوں کا سلسلہ جاری تھا کہ انہیں خفیہ ڈائریوں اور مخبریوں کے سلسلہ میں حضرت اقدس پر الزام لگایا گیا کہ امیر عبدالرحمن خاں صاحب والی افغانستان سے ان کی خط و کتابت ہے اس مخبری پر گورداسپور پولیس کے سپر نٹنڈنٹ ضلع اور رانا جلال الدین صاحب انسپکٹر پولیس ایک پولیس گارڈ لے کر قادیان پہنچے اور دار المسیح کا محاصرہ کر لینے کے بعد رانا صاحب اور سپرنٹنڈنٹ پولیس مسجد مبارک کی چھت پر پہنچے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ موجود تھے۔مکرم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کہتے ہیں کہ مولوی صاحب بہت پریشان ہوئے یہ بالکل غلط ہے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب ایک قوی الایمان مومن تھے۔اور کوئی بڑی سے بڑی آفت بھی انہیں پراگندہ دل نہیں کر سکتی تھی انہوں نے نہایت بے التفاتی سے