حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 148
حیات احمد ۱۴۸ جلد پنجم حصہ اول بٹالہ میں مذہبی جوش بہت تھا۔مولوی محمد حسین جو اندیشہ بتا تا تھا میرے خیال میں وہ واقعی اندیشہ ہے مجھ کو اس واسطے خیال ہے کہ عام افواہ ہے کہ جو پیشین گوئیاں کی گئیں ہیں میرے نزدیک واقعی اندیشہ ہے ( جرح مسٹر اورٹل پر کہا) محمد حسین کی نسبت میرے پاس کوئی رپورٹ نہیں ہوئی کہ اس سے اندیشہ ہے وہ کبھی کسی مقدمہ میں یا لڑائی میں شامل نہیں ہوا یہ دونوں اپنی اپنی جگہ پیشوائے اسلام سمجھتے ہیں ( جرح مولوی فضل الدین وکیل پر کہا ) مرزا غلام احمد کی نسبت کسی آدمی کی طرف سے کوئی خاص رپورٹ تھانہ میں نہیں ہوئی کہ اس کی طرف سے خطرہ ہے۔چند سالوں سے مرزا صاحب ہمیشہ قادیان میں رہتے ہیں مرزا صاحب کا اپنا چھا پہ خانہ قادیان میں ہے سوائے اس الحکم کے چھاپہ خانہ کے میرے سامنےمرزا صاحب نے کبھی مشورہ صلح کسی امر کے چھاپے جانے کی نسبت یعقوب علی کو نہیں دی میری آمد ورفت قادیان میں اکثر زیادہ رہتی ہے ہفتے یا دوسرے ہفتے جایا کرتا ہوں جو اخبار یا رسالہ کبھی دیکھنے کے لئے منگا تا تھا تو مجھ کو یہ فرماتی تھی کہ مرزا صاحب کے حکم سے ایڈیٹر دیتا ہے میں نے الحکم میں ایڈیٹر کا یہ اعلان نہیں دیکھا کہ مرزا صاحب کا اس رسالہ سے کچھ تعلق نہیں ہے ایک شکایت نسبت ایک کانسٹبل حاکم علی کے الحکم میں چھپی تھی اس نے رپورٹ دی تھی کہ مرزا غلام احمد اور نظام الدین کے درمیان بابت تنازعہ ایک دیوار کے سخت اندیشہ فساد کا ہے۔مولوی محمد حسین نے بعد اشتہار تیرہ ماہ کے مجھ کو چھری دکھلائی تھی مجھ کو مقامی حالات کی وجہ سے یہ خیال ہے کہ جب کبھی مرزا صاحب پیشگوئی کرتے ہیں تو اس کی صداقت کی کوشش کرتے ہیں محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بقلم خود۔دستخط حاکم بیان گواہ ہمارے مواجہ اور سماعت میں تحریر ہوکر سنا گیا۔سن کر درست تسلیم کیا۔دستخط حاکم بیان سید بشیر حسین انسپکٹر پولیس میں ضلع ہذا میں انسپکٹر پولیس ہوں میں لاہور شہر میں انسپکٹر پولیس تھا قبل اس کے ضلع ہذا میں آیا۔پنڈت لیکھرام کے قتل کے وقت وہاں تھا یہ عام قوی شبہ تھا کہ مرزا غلام احمد کا تعلق اس قتل میں تھا جو فقرات اس وقت پڑھ کر دو فریق کو سنا دیئے گئے ہیں ان کے شائع ہونے کی وجہ سے کوئی شبہ نہیں ہے کہ نقض امن کا اندیشہ ہے نہ مرزا اور نہ مولوی محمد حسین خود کوئی ایسا فعل کریں گے مگر وہ اپنے