حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 150
حیات احمد ۱۵۰ جلد پنجم حصہ اول اس واقعہ کو دیکھا۔میں تو ایک عینی شاہد ہوں اور ڈاکٹر صاحب صرف روایت کرتے ہیں۔بہر حال رانا صاحب نے اپنی آمد کا مقصد بتایا اور حضرت اقدس نماز مغرب کے لئے آنے ہی والے تھے ان کو پولیس کی آمد کی خبر دی آپ تشریف لے آئے۔را نا جلال الدین خاکسار عرفانی سے قتل لیکھرام کے سلسلہ میں امرت سر میں مل چکے تھے اور یہ واقعہ میں لکھ آیا ہوں وہ ایک شریر انفس پولیس افسر تھا۔اور مکرم چوہدری نواب خان رضی اللہ عنہ تحصیلدار کے خاندان سے تعلقات رکھتے تھے۔اور اصل حالات سے بھی واقف تھے مگر فرض منصبی کے لحاظ سے وہ اپنی زبان نہ کھول سکتے تھے بہر حال حضرت کو بتایا گیا کہ حکومت پنجاب کو معلوم ہوا ہے کہ آپ امیر افغانستان سے خفیہ ساز باز رکھتے ہیں اور خط و کتابت بھی ہوتی ہے اس لئے تلاشی لینی ضروری ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا۔آپ ابھی تلاشی لے لیجیے ہم نماز بعد میں پڑھ لیں گے۔یہ الزام سراسر بے بنیاد ہے اور مجھ پر تہمت ہے کہ میں امیر سے کوئی ساز باز رکھتا ہوں میرے اس کے عقیدے میں اختلاف ہے میں اس حکومت کے عدل و انصاف اور اس کی مذہبی آزادی کی قدر کرتا ہوں اور اپنی تصانیف میں اس کا ذکر کرتا ہوں اور جماعت کو یہی تعلیم دیتا ہوں اور یہ بہتان عظیم ہے کہ اسلام کی اشاعت کے لئے تلوار اٹھائی جائے یا کسی غیر مسلم کو اختلاف مذہب کی وجہ سے قتل کر دیا جائے آپ تلاشی لے لیں اور آپ کو حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ع ہر کہ حساب پاک است از محاسبه چه باک ☆ اور اگر آپ چاہیں تو ہم پہلے نماز پڑھ لیں پولیس افسران کو حضرت اقدس کی اس دلیرانہ گفتگو اور فوری آمادگی پر تعجب ہوا اور ان کے شکوک اسی سے جاتے رہے انہوں نے کہا کہ کچھ جلدی نہیں آپ نماز پڑھ لیں۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے حسب معمول نماز پڑھائی اس میں رقت اور خشوع و ترجمہ۔ہر وہ شخص جو حساب کتاب میں پاک ہے اسے محاسبہ کا کیا خوف۔