حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 137
حیات احمد ۱۳۷ جلد پنجم حصہ اول (۱۷) واقعی یہ شخص مخالف حدیث نبوی کے عقیدہ رکھتا ہے۔ایسے شخص کا مکان بلا شک نا ر ہے کیوں کہ یہ فعل اہل بدعت کا ہے۔محمد ہدایت اللہ عفی عنہ فلتی علاقہ کا نپور مدرس مدرس فتچوری دہلی (۱۸) جو شخص امام مہدی علیہ السلام کا انکار کرتا ہے وہ گمراہ ہے اور احادیث صحیحہ کا منکر ہے۔مثلا سرندی وغیرہ میں یہ حد یہیں موجود ہیں۔عبداللہ خان گھر بیو ی اقلام خود میر (۱۹) الجواب صحیح واقعی حدیث نبوی صلعم کا منکر ہے اور ایسے عقیدہ کا شخص کذاب لوگوں میں سے ہے فقط۔مولوی محمد عبدالرزاق خلف حاجی خدا بخش المتخلص ناچیز ساکن قصبه خورجه ضلع بلند شہر (۲۰) اَلْجَوَاب أَقُولُ وَبِاللهِ التَّوْفِيقِ۔معلوم ہو کہ انکار ظہور امام مہدی سے جیسے احادیث میں ہے اور سلفاً وخلفاً اہل اسلام کے نزدیک مسلّم ہے۔صرف ضلالت اور گمراہی ہے۔اور یہ انکار کسی دجال کا کام ہے۔فقط۔وَاللَّهُ يَهْدِى مَنْ يَّشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دستخط الراقم عبدالعزیز عفی عنہ لودیا نوی تبلیغ رسالت جلد ۸ صفحه ۶ تا ۹- مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۲۷ تا ۳۷۳ طبع بار دوم ) اس فتویٰ کی اشاعت پر مولوی محمد حسین کی جو حالت ہونی چاہیے تھی وہ ظاہر ہے اور وہ سراسیمہ ہوکر مفتون کے پاس پہنچا کہ یہ کیا غضب کر دیا اس کا کوئی مدارک ہونا چاہیے کسی اور کو تو جرات نہ ہوئی کہ وہ اپنی زبان کھولے مگر عبدالحق غزنوی نے جو سلسلہ کی عداوت میں اپنا توازن کھو چکا تھا اور مباہلہ کر کے ذلت اٹھا چکا تھا۔اس نے ایک اشتہار کے ذریعہ عذر گناہ بدتر از گناہ اپنے علم کے آپ پر نچے اڑا دیئے۔اس پر حضرت اقدس نے مکرر علماء کے سامنے عبدالحق کے عذر کو پیش کیا آپ نے ایک دوسرا استفتاء مفتیوں کے نام لکھا اور انہوں نے اپنے فتوی کو صحیح تسلیم کیا جسے عامتہ المسلمین کے فائدہ کے لئے آپ نے ۲۰ جنوری ۱۸۹۹ء کو شائع کر دیا جو یہ ہے۔