حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 129 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 129

حیات احمد ۱۲۹ جلد پنجم حصہ اول ہے کہ یہ شخص خود اُن کے اجماعی عقیدہ کا مخالف ہے۔کیوں کہ وہ اس رسالہ میں مہدی موعود کے آنے سے قطعی منکر ہے جس کی تمام مسلمانوں کو انتظار ہے۔جوان کے خیال کے موافق حضرت فاطمہ کی اولاد میں سے پیدا ہوگا۔اور مسلمانوں کا خلیفہ ہوگا۔اور نیز ان کے مذہب کا پیشوا اور دوسرے فرقوں کے مقابل پر مذہبی لڑائیاں کرے گا۔اور حضرت عیسی علیہ السلام اس کی مدد اور تائید کے لئے آسمان سے اتریں گے اور ان دونوں کا ایک ہی مقصد ہو گا۔اور وہ یہ کہ تلوار سے دین کو پھیلا دیں گے اور اب مولوی محمد حسین نے ایسے مہدی کے آنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور اس انکار سے نہ صرف وہ مہدی کے وجود کا منکر ہوا بلکہ ایسے مسیح سے بھی انکار کرنا پڑا جو اس مہدی کی تائید کے لئے آسمان سے اترے گا اور دونوں باہم مل کر مخالفین اسلام سے لڑائیاں کریں گے۔اور یہ وہی عقیدہ ہے جس کی وجہ سے محمد حسین نے مجھے دقبال اور ملحد ٹھہرایا تھا اور اب تک مسلمانوں کو یہی دھوکا دے رہا تھا کہ وہ اس عقیدہ میں ان سے اتفاق رکھتا ہے۔اور اب یہ پردہ کھل گیا کہ وہ دراصل میرے عقیدہ سے اتفاق رکھتا ہے یعنی ایسے مہدی اور مسیح کے وجود سے انکاری ہے اس لئے مسلمانوں کی نظر میں اور ان کے تمام علماء کی نظر میں ملحد اور دقال ہو گیا۔سو آج پیشگوئی جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا اُس پر پوری ہوگئی۔کیوں کہ اس کے یہی معنی ہیں کہ فریق ظالم کو اسی بدی کی مانند سزا ہوگی جو اس نے اپنے فعل سے فریق مظلوم کو پہنچائی۔رہی یہ بات کہ اُس نے مجھے گورنمنٹ انگریزی کا باغی قرار دیا۔سوخدا تعالیٰ کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ عنقریب گورنمنٹ پر بھی یہ بات کھل جائے گی کہ ہم دونوں میں سے کس کی باغیانہ کارروائیاں ہیں۔ابھی سلطان روم کے ذکر میں اُس نے میرے پر حملہ کر کے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ نمبر ۳ جلد ۱۸ میں ایک خطر ناک اور باغیانہ مضمون لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سلطان روم کو خلیفہ برحق سمجھنا چاہیے۔اور اس کو