حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 128
حیات احمد ۱۲۸ جلد پنجم حصہ اول بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمُدَهُ وَ نُصَلِّي میری وہ پیشگوئی جو الہام ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء میں فریق کا ذب کے بارے میں تھی یعنی اس الہام میں جس کی عربی عبارت یہ ہے جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وہ مولوی محمدحسین بٹالوی پر پوری ہوگئی میری التماس ہے کہ گورنمنٹ عالیہ اس اشتہار کو توجہ سے دیکھے۔مندرجہ عنوان امر کی تفصیل یہ ہے کہ ہم دو فریق ہیں ایک طرف تو میں اور میری جماعت اور دوسری طرف مولوی محمد حسین اور اس کی جماعت کے لوگ یعنی محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی وغیرہ محمد حسین نے مذہبی اختلاف کی وجہ سے مجھے دجال اور کذاب اور ملحد اور کا فرٹھہرایا تھا اور اپنی جماعت کے تمام مولویوں کو اس میں شریک کرلیا تھا۔اور اسی بناء پر وہ لوگ میری نسبت بد زبانی کرتے تھے اور گندی گالیاں دیتے تھے۔آخر میں نے تنگ آکر اسی وجہ سے مباہلہ کا اشتہار ۲۰ نومبر ۹۸ ء جاری کیا جس کی الہامی عبارت جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا میں یہ ایک پیشگوئی تھی کہ ان دونوں فریق میں سے جو فریق ظلم اور زیادتی کرنے والا ہے اُس کو اُسی قسم کی ذلت پہنچے گی جس قسم کی ذلت فریق مظلوم کی کی گئی سو آج وہ پیشگوئی پوری ہوگئی کیوں کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنی تحریروں کے ذریعہ سے مجھے یہ ذلت پہنچائی تھی کہ مجھے مسلمانوں کے اجماعی عقیدہ کا مخالف ٹھہرا کر ملحد اور کافر اور دقبال قرار دیا۔اور مسلمانوں کو اپنی اس قسم کی تحریروں سے میری نسبت بہت اکسایا کہ اس کو مسلمان اور اہل سنت مت سمجھو کیوں کہ اس کے عقائد تمہارے عقائد سے مخالف ہیں۔اور اب اس شخص کے رسالہ ۱۴ / اکتو بر ۱۸۹۸ء کے پڑھنے سے جس کو محمد حسین نے اس غرض سے انگریزی میں شائع کیا ہے کہ تا گورنمنٹ سے زمین لینے کے لئے اس کو ایک ذریعہ بناوے۔مسلمانوں اور مولویوں کو معلوم ہو گیا