حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 130 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 130

حیات احمد ۱۳۰ جلد پنجم حصہ اول دینی پیشوا مان لینا چاہیے اور اس مضمون میں میرے کافر ٹھہرانے کے لئے یہ ایک وجہ پیش کرتا ہے کہ یہ شخص سلطان روم کے خلیفہ ہونے کا قائل نہیں ہے“۔سو اگر چہ یہ درست ہے کہ میں سلطان روم کو اسلامی شرائط کے طریق سے خلیفہ نہیں مانتا کیوں کہ وہ قریش میں سے نہیں ہے۔اور ایسے خلیفوں کا قریش میں سے ہونا ضروری ہے لیکن یہ میرا قول اسلامی تعلیم کے مخالف نہیں بلکہ حدیث الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ سے سرا سر مطابق ہے مگر افسوس کہ محمد حسین نے باغیانہ طرز کا بیان کر کے پھر اسلام کی تعلیم کو بھی چھوڑا۔حالانکہ پہلے خود بھی یہی کہتا تھا کہ سلطان خلیفہ مسلمین نہیں ہے اور نہ ہمارا دینی پیشوا ہے اور اب میری عداوت سے سلطان روم اس کا خلیفہ اور دینی پیشوا بن گیا۔اور اس جوش میں اُس نے انگریزی سلطنت کا بھی کچھ پاس نہیں کیا اور جو کچھ دل میں پوشیدہ تھا وہ ظاہر کر دیا اور سلطان روم کی خلافت کے منکر کو کا فر ٹھہرایا۔اور یہ تمام جوش اُس کو اس لئے پیدا ہوا کہ میں نے انگریزی سلطنت کی تعریف کی اور یہ کہا کہ یہ گورنمنٹ نہ محض مسلمانوں کی دنیا کے لئے بلکہ ان کے دین کے لئے بھی حامی ہے۔اب وہ بغاوت پھیلانے کے لئے اس بات سے انکار کرتا ہے کہ کوئی دینی حمایت انگریزوں کے ذریعہ سے ہمیں پہنچی ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ دین کا حامی فقط سلطان روم ہے۔مگر یہ سراسر خیانت ہے۔اگر یہ گورنمنٹ ہمارے دین کی محافظ نہیں تو پھر کیونکر شریروں کے حملوں سے ہم محفوظ ہیں۔کیا یہ امر کسی پر پوشیدہ ہے کہ سکھوں کے وقت میں ہمارے دینی امور کی کیا حالت تھی اور کیسے ایک بانگ نماز کے سننے سے ہی مسلمان کے خون بہائے جاتے تھے۔کسی مسلمان مولوی کی مجال نہ تھی کہ ایک ہندو کو مسلمان کر سکے۔اب محمد حسین ہمیں جواب دے کہ اُس وقت سلطان روم کہاں تھا اور اس نے ہماری اس مصیبت کے وقت ہماری کیا مدد کی تھی ؟ پھر وہ ہمارا دینی پیشوا اور خدا کا سچا خلیفہ کیونکر ہوا۔آخر انگریز ہی تھے جنہوں نے ہم پر یہ احسان کیا کہ پنجاب میں آتے ہی یہ ساری