حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 109 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 109

حیات احمد ۱۰۹ جلد پنجم حصہ اول منشی الہی بخش میدان جنگ میں مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ بعض لوگ جن کو ابتداء حضرت اقدس سے اخلاص و محبت کا بہت بڑا دعویٰ تھا اور ان کی عملی زندگی بھی حضرت کے لئے مقام ادب اور مقام تائید میں بسر ہوتی تھی بعض اندرونی کمزوریوں اور پنہانی معصیتیوں کی وجہ سے ردّ ہو گئے۔مولوی محمد حسین کے بعد صوفی عباس علی کو یہ عذاب چکھنا پڑا تھا اور اب الہی بخش بھی اسی صف میں کھڑا ہو گیا وہ ان تمام حقائق اور روایات کو بھول گیا جو اسے حضرت اقدس کی خدمت میں لانے کا محرک ہوئی تھیں وہ اپنے سابق مرشد مولوی عبد اللہ غزنوی کی ان بشارتوں کو بھی نظر انداز کر گیا جو اس نے حضرت اقدس کے متعلق اُن سے سنی تھیں اس کے علاوہ وہ تمام الہامات اور کشوف جو اس کو حضرت اقدس کی صداقت اور ماموریت کے متعلق ہوتے رہے جن کا اندراج ایک باقاعدہ رجسٹر میں وہ کرتارہتا تھا جس میں اُس نے اپنے ایک الہام کا شان نزول یہ لکھا ہوا تھا کہ ” ایک مرتبہ میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ مرزا صاحب کو خدا تعالیٰ نے بڑے بڑے درجات عطا کئے ہیں مگر میرے واسطے کچھ نہیں تو الہام ہوا ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ مگر سنت اللہ یہی ہے کہ جب انسان کسی مامور من اللہ کے مقابلہ میں کھڑا ہوتا ہے تو عالم کا علم اور مہمین کے الہامات سلب ہو جاتے ہیں۔چنانچہ جب وہ قادیان سے واپس ہوئے اور پھر ضرورة الامام شائع ہوئی تو ان کے غیظ و غضب کا پارہ چڑھ گیا اور میدان مقابلہ میں صف آرا ہو گئے اور غزنویوں کے جرگہ سے ( جو بابو الہی بخش صاحب کے الہامات پر استہزاء کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ چہ داند و زنہ لذات ادرک) جاملے اس لئے کہ وہ حضرت اقدس کی مخالفت میں سرگرم تھا اور عبد الحق غزنوی (جس کا ذکر اس کتاب میں آچکا ہے ) بھی الہام کا دعویٰ کرتا تھا اور ان تمام حرکات کو بھلا دیا جو غزنوی اس کی تحقیر اور تذلیل کے لئے کرتے تھے اور اس طرح پر ثابت کیا (الْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ )۔غرض وہ اپنی شوخیوں میں بڑھتے گئے چونکہ منشی الہی بخش صاحب کی مخالفانہ کوششوں کی