حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 110
حیات احمد 11۔جلد پنجم حصہ اول تفصیل ۱۸۹۹ء، ۱۹۰۰ ء میں آئے گی۔اس لئے ۱۸۹۸ء کے بقیہ واقعات کو بیان کروں گا۔ایک نئے فتنہ کا آغاز اور سلسلہ مقدمات کی ایک اور کڑی عیسائیوں اور ان کے معاونین خصوصی آریہ اور بٹالوی کو جب مارٹن کلارک کے مقدمہ میں شکست ہوئی تو مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے کرسی والے معاملہ میں ذلیل ہو کر اپنی مخالفت کو تیز کر دیا مخالفت اگر دیانت داری اور طلب حق کے لئے ہو تو وہ حدود شرافت و انسانیت سے باہر نہیں جاتی لیکن جب مخالفت کی بنیاد محض نفسانیت ہو تو ایسا انسان ہر قسم کے اخلاق سے نگا ہو جاتا ہے یہی حالت مولوی محمد حسین صاحب کی تھی اس پر صبر و برداشت تو لازمی تھی اور جماعت اپنے مجروح قلوب کو دردمند ہوتے ہوئے بھی اُف نہ کر سکتی تھی آخر اس کے آخری فیصلہ کے بموجب جماعت کے ایک طبقہ نے مولوی محمد حسین صاحب کو مباہلہ کی دعوت دی اور اس دعوت کا قرعہ بطور ایک نمائندہ کے خاکسار کے نام پڑا اور اس مقصد کے لئے ایک اعلان معززین پنجاب کے نام شائع کیا گیا اور یہ انعامی اعلان تھا جسے اخبار الحکم مورخہ ۱/۲۹اکتوبر ۱۸۹۸ء میں بھی شائع کیا جو حسب ذیل ہے۔لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى مَنْ أَعْرَضَ عَنْ هَذَا وَأَبَى وو وَرَحْمَةُ اللهِ عَلَى مَنْ قَبلَ وَانى مولوی محمد حسین بٹالوی پر آخری حجت یعنی بلا شرط مباہلہ کی دعوت اور دو ہزار پانچ سو پچیس روپیہ آٹھ آنہ کا انعام یہ امر بوضاحت بیان ہو چکا ہے کہ میاں محمد حسین بٹالوی ہی جناب حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود کی تکفیر کا اصل محرک اور بانی ہوا ہے اور باقی تمام حمد یہ رقم اخیر نومبر تک جس قدر بڑھ جاوے گی وہ بذریعہ الحکم مشتہر ہوتی رہے گی اور ۳۰ رنومبر کو جو تم ہوگی وہ آخری رقم ہوگی (ایڈیٹر )