حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 108
حیات احمد جلد پنجم حصہ اول خرید وفروخت ہم سے کر لے اور اگر اس کے پاس ایسے حقائق اور معارف اور آسمانی برکات ہیں جو ہمیں دیئے گئے اور اس پر وہ قرآنی علوم کھولے گئے ہوں جو ہم پر نہیں کھولے گئے۔تو بسم اللہ ! وہ بزرگ ہماری غلامی اور اطاعت کا ہاتھ لیوے اور وہ روحانی معارف اور قرآنی حقائق اور آسمانی برکات ہمیں عطا کرے۔میں تو زیادہ تکلیف دینا ہی نہیں چاہتا۔ہمارے ملہم دوست کسی ایک جلسہ میں سورۂ اخلاص کے ہی حقائق و معارف بیان فرما دیں جس سے ہزار درجہ بڑھ کر ہم بیان نہ کرسکیں۔تو ہم ان کے مطیع ہیں۔ندارد کسے باتو نا گفته کار و لیکن چو گفتی دلیلش بسیار بہر حال اگر آپ کے پاس وہ حقائق اور معارف اور برکات ہیں جو معجزانہ اثر اپنے اندر رکھتے ہیں۔تو پھر میں کیا میری تمام جماعت آپ کی بیعت کرے گی اور کوئی سخت بدذات ہوگا کہ جو ایسا نہ کرے مگر میں کیا کہوں اور کیا لکھوں معافی مانگ کر کہتا ہوں کہ جس وقت میں نے آپ کے الہامات لکھے ہوئے سنے تھے ان میں بھی بعض جگہ صرفی اور تحوی غلطیاں تھیں آپ ناراض نہ ہوں میں نے محض نیک نیتی سے اور غربت سے دینی نصیحت کے طور پر یہ بھی بیان کر دیا ہے۔باایں ہمہ میرے نزدیک اگر الہامات میں کسی نا واقف اور ناخواندہ کے الہامی فقروں میں محوی صرفی غلطی ہو جائے تو نفس الہام قابل اعتراض نہیں ہوسکتا۔“ ( ضرورة الامام صفحه ۲۶ تا ۲۸۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۹۷ تا ۴۹۹) اس کے بعد آخر تک آپ نے منشی الہی بخش صاحب کو مناسب وقت اور ضروری نصائح فرمائی ہیں جو ہر شخص کے ایمان میں ایک بشاشت پیدا کرتی ہیں جو ضرورۃ الامام کو پڑھے۔پڑے گی۔ترجمہ۔اگر تو نے کوئی بات نہیں کہی تو کسی کو تجھ سے کوئی واسطہ نہیں، لیکن اگر کہی ہے تو اس کی دلیل لانی