حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 102
حیات احمد ۱۰۲ جلد پنجم حصہ اول مدارس جموں وکشمیر تھے اور بہت سے جماعت کے لوگ تھے چنانچہ اس کے بعد ایسا ہوا کہ وہ ہند و تحصیلدار یکا یک بدل گیا۔اور اس کی جگہ میاں تاج الدین صاحب تحصیلدار بٹالہ مقرر ہوئے جنہوں نے نیک نیتی کے ساتھ اصل حقیقت کو دریافت کر لیا۔اور جو کچھ تحقیقات سے معلوم ہوا اس کی رپوٹ ڈکسن صاحب ڈپٹی کمشنر بہا در ضلع گورداسپور میں بھیج دی اور نیک اتفاق یہ ہوا کہ صاحب موصوف بھی زیرک اور انصاف پسند تھے۔انہوں نے لکھ دیا کہ مرزا غلام احمد صاحب کا ایک شہرت یافتہ فرقہ ہے جن کی نسبت ہم بدلنی نہیں کر سکتے یعنی جو کچھ عذر کیا گیا ہے۔وہ واقعی درست ہے اس لئے ٹیکس معاف اور مسل داخل دفتر ہو۔نزول مسیح صفحه ۲۲۹روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۶۰۶ - ۲۰۷) بعض الفاظ کی توضیح اس کشف میں جو مسلمان کرسی پر بیٹھا دکھایا گیا ہے آپ نے اس وقت فرمایا تھا کہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ سلطان احمد کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔آپ نے یہاں مصلحتا نام نہیں لکھا اور چونکہ حضرت مرزا سلطان احمد ( رضی اللہ عنہ) کے تعلقات باغبانپوری خاندان سے بہت گہرے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی شکل میں میاں تاج الدین کو دکھایا اور سلطان احمد کے نام میں کامیابی کی بشارت دی۔کشف کے بیان کے وقت یہ بھی فرمایا کہ اس کے قلم چلنے (صَرِيرِ قلم) کی آواز آتی ہے۔حاضرین وقت کے تمام اسماء آپ نے نہیں بیان فرمائے صرف خواجہ جمال الدین صاحب کا نام لیا۔مکرم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مغفور نے مجدد اعظم میں مکرم مولوی محمد علی صاحب مغفور کا نام بھی لکھا ہے مولوی صاحب موصوف حضرت اقدس کے بہت سے نشانات کے گواہ ہیں مگر اُس وقت وہ قادیان میں نہیں آئے تھے۔یہ کشف آخر جولائی یا اوائل اگست ۱۸۹۸ء کا ہے۔مولوی محمد علی صاحب کی وقتی حاضری ۲۵ اگست ۱۸۹۸ء سے ثابت ہے جیسا کہ