حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 103
حیات احمد ۱۰۳ جلد پنجم حصہ اول الحکم مورخہ ۲۰ تا ۲۷ راگست ۱۸۹۸ء سے ظاہر ہے۔آج رات کے آخری حصہ میں بہت خفیف سا تقاطر شروع ہو گیا اس لئے نماز فجر معمولی وقت سے کسی قدر دیر سے ہوئی۔بعد نماز فجر حضرت اقدس ( جیسا حضور کا دستور ہے کہ گاہے گا ہے بیٹھ جایا کرتے ہیں ) بیٹھ گئے۔باہر سے آئے ہوئے احباب میں سے سیالکوٹ کے چند احباب مثل ماسٹر غلام محمد صاحب و ماسٹر قائم الدین بی۔اے وحکیم حسام الدین صاحب اور ایسا ہی کلانور سے جناب مرزا نیاز بیگ صاحب سابق ضلع دار نهر و مرزا رسول بیگ صاحب خلف مرزا صاحب موصوف اور امرتسر سے میاں جیون بٹ لاہور سے مولوی محمد علی ایم۔اے اور مرزا ایوب بیگ ٹیچر چیفس کالج۔میاں شیر علی اور علی گڑھ کالج سے میاں شیر محمد خاں سٹوڈنٹ بی۔اے کلاس اور اور احباب مع مقامی بزرگوں کے جمع تھے فارسی زبان کی تصنیفات پر سلسلہ گفتگو چلتے چلتے مولانا مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے فرمایا کہ ایرانیوں نے آج کل اپنی توجہ تصنیفات کی طرف بہت مبذول کی ہے۔اور اس کثرت سے عربی الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ بجز روابط کے فارسی زبان کو کم دخل دیتے ہیں۔اور باب مفاعلہ۔انفعال استفعال وغیرہ کو اس قدر کثرت سے استعمال کرتے ہیں کہ عقل حیران ہو جاتی ہے۔“ الحکم مورخه ۲۰ تا ۲۷ اگست ۱۸۹۸ء صفحه ۹ کالم نمبر۳)