حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 87
حیات احمد جلد پنجم حصہ اول کی حالت کو نہ بدلا ویں سو ہوشیار ہو جاؤ کہ سخت امتحان کا وقت ہے۔ایک وہ زمانہ تھا کہ خدا تھا اور کوئی نہ تھا اور پھر ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ خدا ہوگا اور اس کے ساتھ کوئی اور نہ ہوگا۔سو تم اُس زمانہ سے ڈرو کہ ایسے وقت میں ظاہر نہ ہو کہ جب تم خواب غفلت میں پڑے ہو۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث طیبہ میں یہ بھی ہے کہ دنیا کا خاتمہ آخر طاعون سے ہی ہوگا۔سوڈرنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ خاتمہ کے دن نزدیک ہوں نیک عمل کرو۔نیک چلن بن جاؤ۔اور خدا کو یاد کرو یہ تقریر تھی جو بطور خلاصہ اس جگہ لکھی گئی پھر بعد اس کے نہایت تضرع سے روروکر دعا کی گئی اور تمام جماعت نے آمین کہی اور پھر جلسہ برخاست ہوا۔یہ بھی تجویز ہوا کہ اس جگہ قادیان میں ایک شفا خانہ کھولا جائے اور اس جماعت کے سند یافتہ ڈاکٹروں میں سے ایک ڈاکٹر صاحب نوبت بنوبت بحصول رخصت چند ماہ تک قادیان میں رہا کریں اور اپنی جماعت کے اور نیز غربا کے لئے جو اس قصبہ کے یا دیہات قرب و جوار میں ہوں مفت دوا تقسیم ہو اور تجویز ہوا کہ طاعون کے دنوں تک یہ شفاخانہ کھلا رہے اور نیز یہ بھی تجویز ہوا کہ قادیان کے گوشہ جنوب مغرب کے طرف مرزا صاحب کے باغ میں یہ شفاخانہ ہونا چاہیے تا بیماروں کا اجتماع قصبہ سے الگ ہو۔حاضرین جلسہ اگر چہ دوسو کے قریب تھے یا کچھ زیادہ مگر جن کے نام اس وقت قلمبند ہو سکے وہ ذیل میں لکھے جاتے ہیں فقط الراقم شیخ رحمت الله تاجر بمبئی ہاؤس لاہور از قادیان (۴ مئی ۱۸۹۸ء) نوٹ۔ایک اور خوشخبری ناظرین کو دیتا ہوں کہ اس جلسہ میں یہ بھی تجویز ہوا کہ وہ مبارک اور سریع الاثر دو جس کا نام مرہم عیسی ہے اس موقعہ پر تیار کی جائے یہ ایک جلیل الشان مرہم ہے جس کا تذکرہ جالینوس کے بعد تمام حاذق طبیبوں کی تألیفات میں پایا جاتا ہے اور تمام اطباء حاذقین کیا عیسائی اور کیا یہودی اور کیا رومی اور کیا اسلام سب اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ یہ مرہم ہر ایک قسم کے طاعون کے لئے نہایت ہی مفید ہے اور شیخ الرئیس بوعلی سینا بھی اس کی تعریف بہت کرتا ہے اور