حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 88
حیات احمد ۸۸ جلد پنجم حصہ اول تعجب کہ باوجو داس بغض کے جو یہودیوں کو حضرت علیہ السلام سے ہے یہودی طبیب بھی اس مرہم کو جابجا اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں۔غرض قریباً طب کی ہزار کتاب میں اس مرہم مبارک کا ذکر ہے اور تمام فاضل اطباء اس مرہم کا اصل اس طرح پر اپنی کتابوں میں بیان کرتے ہیں کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے تیار کی گئی تھی یعنی اس وقت کہ جب آپ کو نالائق یہودیوں نے صلیب پر چڑھا دیا تب خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے آپ نے صلیب سے بحالت زندگی نجات پائی اور صرف صلیب کی میخوں کے زخم ہاتھوں اور پیروں پر آئے تب الہام الہی سے یہ مرہم تیار کی گئی اور چالیس دن آپ کے زخموں کے لئے استعمال ہوتی رہی آخر اسی سے اللہ تعالیٰ نے شفا بخشی اور زخم اچھے ہو گئے اور اس قدر طاقت آگئی کہ آپ نے پھر کشمیر کی طرف سفر کیا اور غالباً اس سفر میں تبت کا بھی سیر کیا ہو گا اسی سیر کی وجہ سے آپ کو اہلِ اسلام میں سیاح کہتے ہیں اور بعض نے لکھا ہے کہ آپ کا نام مسیح بھی اسی وجہ سے ہے کہ آپ نے زمین پر بہت سیر کیا ہے اور مَسَحَ جس سے مسیح مشتق ہے زمین پر چلنے پھرنے کو کہتے ہیں۔اس سیر کی یہ ضرورت تھی کہ اس وقت یہودی اپنی جگہ سے متفرق ہو کر کشمیر میں بھی آگئے اور کشمیر میں بعد دعوت یہود ایک پہاڑ پر خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے آخر ایک سو بیس برس کی عمر میں کشمیر میں ہی انتقال فرمایا اور سرینگر محلہ خان یار میں آپ کا مزار ہے۔اور کشمیر میں آپ کا نام شہزادہ یوز آسف نبی مشہور ہے اور کہتے ہیں کہ انیس سو برس آپ کی وفات کو ہوئے ہیں غالباً یوز کا لفظ یسوع سے بگڑا ہوا ہے بہر حال آپ کا یہ معجزہ ہے کہ یہ مرہم علاوہ زخموں کے اچھا کرنے کے ہر ایک قسم کی طاعون کے لئے بھی مفید ہے اور حال ہی میں ایک انجیل تنبت سے برآمد ہوئی وہ بھی بیان مذکورہ بالا کی مؤید ہے، منه گورنمنٹ وقت کا اعتراف پنجاب گورنمنٹ نے اس جلسہ کی روئداد پڑھ کر مندرجہ ذیل چٹھی لکھی۔شمله مورخها ارجون ۱۸۹۸ء منجانب ایچ۔جی کے نارڈ صاحب بہادر جو نیر سیکرٹری گورنمنٹ پنجاب بطرف