حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 86
حیات احمد ۸۶ جلد پنجم حصہ اول اس لئے یہ گورنمنٹ رعایا کو بچانے کے لئے لکھوکھا روپیہ خرچ کر رہی ہے اور اپنے دل کو سخت غم اور تشویش میں ڈال رہی ہے مگر چاہیے کہ لوگ اس نازک وقت میں خدا تعالیٰ کی طرف بھی متوجہ ہوں اور ظلم اور خیانت اور طرح طرح کے نالائق کاموں سے باز آجائیں کیوں کہ جب تک اللہ تعالیٰ راضی نہ ہو تب تک کوئی تدبیر پیش نہیں جاتی خدا کا راضی کرنا تمام تدابیر کی جڑ ہے۔اور یہ بھی کہا کہ کچھ شک نہیں کہ اس مرض کے پھیلنے میں عفونت کو بہت کچھ دخل ہے ردی غذاؤں سے عفونت اور عفونت سے سمیت اور ستمیت سے طاعون کا مادہ تیار ہوتا ہے۔اس لئے عفونت سے بچنا ضروری ہے اور مکانوں کی عفونت وہی کام کرتی ہے۔ایسا ہی لباس کی عفونت بھی اس مرض کی ممد ہے اس لئے ہر ایک پہلو کی عفونت سے بچو اور یہ بھی فرمایا کہ حال کی ڈاکٹری تحقیق نے اس بیماری کی جڑ کیڑے ثابت کئے ہیں جو زمین میں پیدا ہوتے ہیں اور پہلے پہلے اپنا اثر چوہوں پر کرتے ہیں اور پھر زمین میں منتشر ہو کر انسان پر حملہ کرتے اور پیروں کی راہ سے خون میں داخل ہوتے ہیں لیکن تم نہ کیٹروں کو دیکھ سکتے نہ پہچان سکتے ہو اس لئے موٹا طریق خود حفاظتی کا تمہارے لئے یہی ہے کہ کوئی عفونت کا مادہ اپنے گھر میں اپنے لباس میں اپنی بدر رو میں ٹھہر نے نہ دو چاہیے کہ سرکہ میں جدوار کی گولیاں بنا کر جو ایک رتی سے چھ سات رتی تک مختلف وزن کی گولیاں ہوں اور مین چھوٹے بڑے سب کھایا کریں مگر مناسب ہے کہ دہی کی چھاچھ کے ساتھ ان کو کھاویں اور بچے بھی کھاویں اور جوان بھی اور بوڑھے بھی اور ایک وقت چند قطرے سپرٹ کیمفر کے بھی استعمال کیا کریں یہ علاج بھی حفظ ما تقدم ہے۔اور یہ بھی فرمایا کہ ایک اور دوا ہم تیار کر رہے ہیں جو انشاء اللہ بہت مفید ہوگی اور فرمایا اس دوا کی تیاری کے لئے شیخ رحمت اللہ صاحب ( یعنی اس عاجز نے ) دوسورو پید اپنے پاس سے دیا ہے“۔یہ بہت سی تریاقی دواؤں کا ایک مرکب ہے۔پھر فرمایا کہ یہ تمام حیلے ہیں آفات سے بچانا خدا کا کام ہے اور اس کی مرضی پر موقوف ہے۔وہ فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُخَيَّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِم لے یعنی اللہ تعالیٰ انسانوں کی کسی حالت کو بدلا تا نہیں جب تک وہ اپنے دلوں الرعد : ١٢